خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 616 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 616

خطبات مسرور جلد نهم 616 50 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 دسمبر 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ 16 دسمبر 2011ء بمطابق 16 فتح 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن، (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ہمارے بچے عموم ماشاء اللہ بڑی چھوٹی عمر میں قرآنِ کریم ختم کر لیتے ہیں۔جن کی ماؤں کو زیادہ فکر ہوتی ہے کہ ہماری اولاد جلد قرآنِ کریم ختم کرے وہ اُن پر بڑی محنت کرتی ہیں۔یہاں بھی اور مختلف ملکوں میں جب میں جاتا ہوں تو وہاں بھی بچوں اور والدین کو شوق ہوتا ہے کہ میرے سامنے بچوں سے قرآنِ کریم پڑھوا کر اُن کی آمین کی تقریب کروائیں۔لیکن میں نے دیکھا ہے کہ ایک مرتبہ قرآنِ کریم ختم کروانے کے بعد پھر اُن کی دہرائی اور بچے کو مستقل قرآنِ کریم پڑھنے کی عادت ڈالنے کے لئے عموماً اتناتر ڈ د اور کوشش نہیں ہوتی جتنا ایک مرتبہ قرآنِ کریم ختم کروانے کے لئے کی جاتی ہے۔کیونکہ میں جب عموماً پوچھتا ہوں کہ تلاوت با قاعدہ کرتے ہو یا نہیں۔(بعضوں کے پڑھنے کے انداز سے پتا چل جاتا ہے ) تو عموماً تلاوت میں باقاعدگی کا مثبت جواب نہیں ہو تا۔حالانکہ ماؤں اور باپوں کو قرآنِ کریم ختم کروانے کے بعد بھی اس بات کی نگرانی کرنے چاہئے اور فکر کرنی چاہئے کہ بچے پھر با قاعدہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے کی عادت ڈالیں۔پس اپنی فکریں صرف ایک دفعہ قرآنِ کریم ختم کروانے تک ہی محدود نہ رکھیں بلکہ بعد میں بھی مستقل مزاجی سے اس کی نگرانی کی ضرورت ہے۔یقینا پہلی مرتبہ قرآن کریم پڑھانا اور ختم کروانا ایک بہت اہم کام ہے۔بعض مائیں چار پانچ سال کے بچوں کو قرآنِ کریم ختم کروا دیتی ہیں اور یقینا یہ بڑا محنت طلب کام ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ مستقل مزاجی سے اسے جاری رکھنا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔گزشتہ دنوں ایک خاتون کا مجھے خط ملا جس میں میری والدہ کا ذکر تھا اور لکھا کہ ایک بات جو انہوں نے مجھے کہی اور آج تک میں اس پر اُن کی شکر گزار ہوں کہ ایک دفعہ میں اپنی بچی یا بچے کو لے کر گئی جس نے قرآن کریم ختم کیا تھا تو میں نے بڑے فخر سے انہیں بتایا کہ اس بچے نے چھ سال کی عمر میں قرآن کریم ختم کر لیا ہے۔اس پر انہوں نے کہا کہ چھ سال یا پانچ سال میں قرآنِ کریم ختم کرنا تو اتنے کمال کی بات نہیں ہے۔مجھے تم یہ بتاؤ کہ تم نے بچے کے دل میں قرآنِ کریم کی محبت کتنی پیدا کی ہے؟ تو حقیقت یہی ہے کہ قرآنِ کریم پڑھانے کے ساتھ ہی قرآن کریم کی محبت پیدا کرنی بھی ضروری ہے۔اور