خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 615 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 615

خطبات مسرور جلد نهم 615 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09دسمبر 2011ء سے ہی قادیان جانے کے لئے دعا کرتی تھیں اور اس کے لئے آپ نے ایک لمبی نظم بھی کہی تھی، اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعاسنی اور شادی کے بعد 1952ء میں قادیان آگئیں۔نظم کا ایک شعر اس طرح سے ہے دعائے آرزو یارب عاجزہ عظیم النساء کی دکھادے جلد بستی قادیاں دارالاماں کی تو آپ نے خاوند کے ساتھ زمانہ درویشی ہر قسم کے نامساعد اور کٹھن حالات کے باوجود نہایت وفا اور اخلاص کے ساتھ گزارا۔اور میاں کی وفات کے بعد 29 سال کا طویل عرصہ نہایت صبر اور شکر کے ساتھ بیوگی کی حالت میں قادیان کی مقدس سرزمین میں مقیم رہیں۔بچوں کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھتی تھیں۔انہیں بڑے عمدہ رنگ میں قرآن کریم پڑھایا کرتی تھیں، ان کی پانچ بیٹیاں اور تین بیٹے یاد گار ہیں اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے۔تیسر اجنازہ ہے مکرم سلیمان احمد صاحب مرحوم مبلغ انڈونیشیا۔ان کی وفات یکم دسمبر 2011ء کو ہوئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔دل کی بیماری کی وجہ سے وفات ہوئی۔1953ء کی ان کی پیدائش تھی۔1978ء میں انہوں نے بیعت کی۔1979ء میں جامعہ احمد یہ ربوہ میں فصل الخاص میں داخل ہوئے۔جولائی 1985ء میں مبشر کا امتحان پاس کیا اور واپس انڈو نیشیا آگئے۔ان کا تقرر بو گور (Bogor) میں ہوا اور بعد میں ان کو نو (9) مختلف مقامات پر خدمت کی توفیق ملی۔وفات کے وقت جماعت بانڈ ونگ (Bondung) میں متعین تھے۔ان کی اہلیہ کے علاوہ ان کے تین بچے بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔چو تھا جنازہ الحاج ڈی ایم کالوں صاحب سیر الیون کا ہے۔یہ 26 نومبر 2011ء کو مختصر علالت کے بعد وفات پاگئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ میں غربت میں آنکھ کھولی تھی اور کہا کرتے تھے کہ پندرہ سال کی عمر تک وہ ننگے پاؤں پھر ا کرتے تھے مگر علم سے محبت نے اُن کی کامیابیوں کے قدم چومے اور نوجوانی میں سیر الیون پروڈیوس مارکیٹنگ بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر مقرر ہو گئے۔خود پڑھے، تعلیم حاصل کی۔بڑے خوش اخلاق، ملنسار اور مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے مخلص انسان تھے۔ان کے پسماندگان میں دو بیٹیاں اور چار بیٹے ہیں اور آپ کی اہلیہ حاجیہ سلمی کالوں صاحبہ سیر الیون میں بطور نیشنل صدر لجنہ اماء اللہ خدمت کی توفیق پارہی ہیں۔آپ کے ایک بیٹے ٹومی کالوں صاحب ہیں جو یہاں رہتے ہیں، سابق صدر خدام الاحمدیہ بھی رہ چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی نیکیاں ان کی اولادوں میں بھی جاری رکھے۔ان سب کی نماز جنازہ انشاء اللہ نماز کے بعد ادا ہو گی۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 30 دسمبر 2011ء تا 5 جنوری 2012 ء جلد 18 شمارہ 52 صفحہ 5 تا8)