خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 614 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 614

خطبات مسرور جلد نهم 614 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09دسمبر 2011ء اگر تم باز نہ آئے تو پس عنقریب اللہ تعالیٰ اپنی خاص نصرت کے ساتھ آئے گا اور اپنے بندے کی مدد کرے گا اور اس کا دشمن پیسا جائے گا اور اسے کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکو گے۔اللہ کرے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مخالفین کو کچھ عقل آئے اور اس پیغام کو سمجھنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ تمام احمد یوں کو ہر جگہ ہر قسم کے شر سے محفوظ رکھے اور ہمیں زیادہ سے زیادہ اپنے آگے جھکنے کی اور دعاؤں کی توفیق عطا فرمائے۔اب نمازوں کے بعد میں آج بھی چند جنازے پڑھاؤں گا جس میں سے پہلا جنازہ محترمہ مریم خاتون صاحبہ اہلیہ مکرم محمد ذکری صاحب آف چوبارہ ضلع لیہ کا ہے۔5 دسمبر 2011ء کو شام تقریب پانچ بجے جماعت احمدیہ چوبارہ ضلع لیہ میں چند غیر احمدی افراد نے ایک احمدی فیملی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں موقع پر ہی آپ کی وفات ہو گئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔یعنی یہ شہید خاتون ہیں۔آپ کا گھر مربی ہاؤس سے ملحقہ ہے۔اس رقبے میں دیگر چند احمدی گھرانے بھی آباد ہیں۔چند سال قبل اسی جگہ مخالف فریق نے مشتر کہ کھاتے سے زمین خریدی اور بعد میں محکمہ مال سے ساز باز کر کے مرحومہ کے خاندان کا انتقالِ اراضی منسوخ کر وا دیا۔مقدمہ عدالت میں زیر سماعت بھی ہے پہلے بھی مخالف فریق نے قبضہ کرنے کے لئے حملہ کیا تھا لیکن کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔واقع کے روز اس گروہ نے رقبے پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو مزاحمت کرنے پر بظاہر اینٹ مار کر جبکہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق کسی کے دستے کے وار سے یہ شدید زخمی ہو گئیں اور موقع پر ہی جان جان آفریں کے سپر د کر دی۔احمدیت کی وجہ سے ساری مخالفت تھی۔ان کے خاوند کی دو بہنیں بھی زخمی ہوئی ہیں لیکن اُن کی حالت اب تسلی بخش ہے۔مرحومہ کی عمر 25، 26 سال تھی۔یہ پورا خاندان پیشے کے لحاظ سے زمیندار ہے۔ان کے خسر نے 1992ء میں جب یہ رقبہ خرید اتو اس میں سے احمد یہ مسجد کے قریب واقعہ ایک کنال کا پلاٹ جماعت کو پیش کیا جس پر اب مربی ہاؤس تعمیر ہو چکا ہے۔مخالف فریق کافی عرصے سے اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور ہائی کورٹ تک یہ مقدمہ گیا ہوا تھا۔ہائی کورٹ میں بھی ناکامی ہوئی اس کے بعد انہوں نے ریکارڈ تبدیل کرنے کی کوشش کی اور وہاں جس طرح کہ پاکستان میں طریق ہے یہ مل کر ساز باز کر کے اور اُس کو ریکارڈ کو اپنے نام تبدیل بھی کروالیا۔لیکن بہر حال مقدمہ ابھی چل رہا تھا۔کیونکہ کافی ٹینشن تھی اس لئے جب ڈی پی او کو جماعت نے رپورٹ کی تو ڈی پی او نے صاف لفظوں میں معذرت کرلی کہ میں مخالف فریق کو ناراض نہیں کر سکتا۔بہر حال مریم خاتون صاحبہ کی وفات کے بعد قریبی جماعت شیر گڑھ ضلع لیہ میں ان کی تدفین کی گئی ہے۔جس نے ان کو شہید کیا وہ پولیس کی مدد سے ہی فرار ہو چکا ہے۔ان کے پسماندگان میں خاوند کے علاوہ تین چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔بڑے بیٹے کی عمر نو سال ہے ، اور بچی ماریہ پروین ساڑھے چھ سال کی ہے اور پھر بچہ ساڑھے پانچ سال کا ہے۔دوسرا جنازہ ہے مکرمہ عظیم النساء صاحبہ اہلیہ مکرم بہادر خان صاحب درویش مرحوم قادیان کا ہے، یہ تین دسمبر 2011ء کو وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔آپ مو نگھیر صوبہ بہار کی رہنے والی تھیں اور حضرت میاں شادی خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بہو تھیں۔بچپن