خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 612
612 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم جو باتیں اُنہوں نے کیں، اُن میں سے چند آپ کے سامنے بھی رکھتا ہوں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کی نشانی ہے۔کس شان سے اللہ تعالیٰ آج بھی آپ کی تائید فرماتا ہے۔میں نے باتوں باتوں میں جنگ مقدس کے حوالے سے بات کی تو کہنے لگے کہ میں نے تو اس بارے میں حال ہی میں تحقیق کی ہے لیکن آج مجھے اندازہ ہوا ہے کہ ہنری مارٹن کلارک ماضی میں کھو گیا ہے۔یہ اُن کے پڑپوتے کا بیان ہے کہ ہنری مارٹن کلارک ماضی میں کھو گیا ہے جبکہ اس کے مد مقابل جو شخص تھاوہ دنیا بھر میں کامیاب ہے۔کہنے لگے۔مجھے خود کچھ سال پہلے معلوم نہیں تھا کہ میرے پڑدادا کون ہیں۔ابھی حال ہی میں میں اپنے آباؤ اجداد کی تلاش کر رہا تھا تو مجھے یہ پتا چلا کہ ہنری مارٹن کلارک میرے پڑدادا ہیں۔بہر حال تقریباً آدھا گھنٹہ ہماری گفتگو ہوتی رہی۔بڑے ٹھہرے ہوئے لہجے میں اور احتیاط سے میرے ساتھ بات کر رہے تھے۔میں سمجھا شاید یہ اُن کا انداز ہو گا لیکن بعد میں آصف صاحب کو کہنے لگے کہ ساری ملاقات میں میں بڑی جذباتی کیفیت میں رہا ہوں اور اُس کے بعد جب باتیں ہوئیں آصف صاحب نے انہیں دوبارہ بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہنری مارٹن کلارک کے بارے میں اگر بعض سخت الفاظ استعمال کئے ہیں تو وہ اُس مارٹن کلارک کی ضد کی وجہ سے تھا، اُس مباحثے کی صور تحال کی وجہ سے تھا جو اُس وقت پیدا ہوئی تھی باوجود اس کے کہ بڑا واضح ہے اور سارے مباحثے کو پڑھ کر انسان اندازہ کر سکتا ہے کہ فتح اسلام کی ہوئی لیکن وہ یہی نعرہ لگاتارہا اور اس بات پر اصرار کرتا رہا کہ عیسائیت جیت گئی تو پھر آپ نے یہی فرمایا کہ دعا کے ذریعے سے فیصلہ ہو جائے تا کہ اللہ تعالیٰ واضح نشان دکھائے کافی لمبی باتیں کیں۔اس پر وہ بے ساختہ کہنے لگا۔God has certainly shown a sign even today۔یعنی اللہ تعالیٰ نے یقینی طور پر نشان دکھادیا بلکہ آج بھی نشان دکھا دیا ہے۔ملاقات کا بھی اُس نے ذکر کیا تو اس کی تفصیل تو آصف صاحب کو کہا ہے کہ کسی وقت مضمون بنا کر لکھ دیں۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت آج انہی دشمنانِ اسلام کی اولادوں کے منہ سے اللہ تعالیٰ ظاہر فرمارہا ہے۔اگر سمجھ نہیں آتی تو ان ملاؤں کو ، جو دین کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”میرا انکار میر انکار نہیں ہے بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار ہے کیونکہ جو میری تکذیب کرتا ہے وہ میری تکذیب سے پہلے معاذ اللہ اللہ تعالیٰ کو جھوٹا ٹھہر الیتا ہے جبکہ وہ دیکھتا ہے کہ اندرونی اور بیرونی فساد حد سے بڑھے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ نے باوجود وعدہ اِنا نَحْنُ نَزَلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ (الحجر:10) کے ان کی اصلاح کا کوئی انتظام نہ کیا جب کہ وہ اس امر پر بظاہر ایمان لاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے آیت استخلاف میں وعدہ کیا تھا کہ موسوی سلسلہ کی طرح محمدتی سلسلہ میں بھی خلفاء کا سلسلہ قائم کرے گا۔مگر اس نے معاذ اللہ اس وعدہ کو پورا نہیں کیا اور اس وقت کوئی خلیفہ اس امت میں نہیں اور نہ صرف یہاں تک ہی بلکہ اس بات سے بھی انکار کرنا پڑے گا کہ قرآن شریف نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسیٰ قرار دیا ہے یہ بھی صحیح نہیں ہے