خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 602
602 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم سر پر وہ مجد د پیدا ہوا اور نہ صرف خدا تعالیٰ کے الہام نے اُس کا نام مسیح موعود رکھابلکہ زمانہ کے فتن موجودہ نے بھی بزبانِ حال یہی فتویٰ دیا“ (جو فتنہ زمانہ پھیلے ہوئے تھے ) کہ اس کا نام مسیح موعود چاہئے تو اس کی سخت تکذیب کی اور جہاں تک ممکن تھا اُس کو ایذا دی اور طرح طرح کے حیلوں اور مکروں سے اُس کو ذلیل اور نابود کرنا چاہا۔“ الصلح، روحانی خزائن جلد نمبر 14 صفحہ 254-255) جھٹلایا، تکلیفیں دیں اور ذلیل و نابود کرنے کی کوشش کی۔ایک اور جگہ پر فرماتے ہیں کہ : ایام ا میں نے اس قصیدہ میں جو امام حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت لکھا ہے یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نسبت بیان کیا ہے یہ انسانی کارروائی نہیں۔خبیث ہے وہ انسان جو اپنے نفس سے کاملوں اور راستبازوں پر زبان دراز کرتا ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ کوئی انسان حسین جیسے یا حضرت عیسی جیسے راستباز پر بد زبانی کر کے ایک رات بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔اور وعید مَنْ عَادَى وَلِيًّا لنی۔دست بدست اُس کو پکڑ لیتا ہے۔پس مبارک وہ جو آسمان کے مصالح کو سمجھتا ہے اور خدا کی حکمت عملیوں پر غور کرتا ہے۔“ اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 149) یہ حدیث ہے کہ مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ أَذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ کہ جس نے میرے ولی سے دشمنی اختیار کی تو میں نے اُس کے ساتھ اعلانِ جنگ کر دیا۔(بخاری کتاب الرقاق باب التواضع حديث نمبر (6502) تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں جو کچھ میں لکھتا ہوں وہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے اور مرضی سے اور حکم سے لکھتا ہوں۔پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ”مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اعمال اُن کے ایمان پر گواہی دیتے ہیں۔جن کے دل پر ایمان لکھا جاتا ہے اور جو اپنے خدا اور اُس کی رضا کو ہر ایک چیز پر مقدم کر لیتے ہیں۔اور تقویٰ کی باریک اور تنگ راہوں کو خدا کے لئے اختیار کرتے اور اُس کی محبت میں محو ہو جاتے ہیں۔اور ہر ایک چیز جو بت کی طرح خدا سے روکتی ہے خواہ وہ اخلاقی حالت ہو یا اعمالِ فاسقانہ ہوں یا غفلت اور کسل ہو سب سے اپنے تئیں دور تر لے جاتے ہیں۔لیکن بد نصیب یزید کو یہ باتیں کہاں حاصل تھیں۔دنیا کی محبت نے اُس کو اندھا کر دیا تھا۔مگر حسین رضی اللہ عنہ طاہر مطہر تھا اور بلاشبہ وہ اُن برگزیدوں میں سے ہے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے۔اور بلاشبہ وہ سردارانِ بہشت میں سے ہے۔اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اُس سے موجب سلب ایمان ہے۔اور اس امام کی تقویٰ اور محبت الہی اور صبر اور استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہے۔اور ہم اس معصوم کی ہدایت کے اقتداء کرنے والے ہیں جو اُس کو ملی تھی۔تباہ ہو گیا وہ دل جو اس کا دشمن ہے۔اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو