خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 53 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 53

خطبات مسرور جلد نهم 53 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 4 فروری 2011ء اب میں آنحضرت صلی اللہ نام کی ایک حدیث پیش کرنا چاہتا ہوں جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مومن کا معیار کیا ہونا چاہئے؟ اس حدیث کو پڑھ کر خوف سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ چار خصلتیں ہیں جس میں ہوں وہ پورا منافق ہے۔اور جس میں ان خصلتوں میں سے ایک خصلت ہو اُس میں نفاق کی بھی ایک ہی خصلت ہو گی جب تک وہ اسے نہ چھوڑ دے۔اُن خصلتوں میں سے پہلی بات یہ ہے کہ اگر اُس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ خیانت کرتا ہے۔اور دوسری بات یہ کہ جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے۔تیسری بات یہ کہ جب عہد کرتا ہے تو عہد شکنی کرتا ہے۔اور چوتھی بات یہ کہ جب جھگڑتا ہے تو گالی بکتا ہے۔(صحیح بخاری - کتاب الایمان ـ باب علامة المنافق حديث:34) حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب جنہوں نے جماعت میں صحیح بخاری کی کچھ شرح لکھی تھی۔وہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ”ایمان کی بحث میں نفاق کا ذکر لانے سے بھی وہی مقصود ہے جو کفر اور شرک اور ہر قسم کی بد اعتدالی اور ناشائستگی کے ذکر کرنے سے ہے۔یعنی نفاق بھی ایمان کو ناقص کرنے والا ہے“۔پھر لکھتے ہیں کہ ”جیسے جیسے کسی شخص میں ان علامتوں میں سے کوئی علامت پائی جائے گی ویسے ویسے اس میں نفاق زیادہ اور ایمان کم ہوتا جائے گا۔نفاق کے معنی ہیں باطن کا ظاہر کے ساتھ مطابق نہ ہونا “۔( یعنی دل میں کچھ اور ہونا اور ظاہر میں کچھ ہونا) یا واقعہ کے خلاف ہونا“۔(کہ حقیقت کچھ اور ہو اور بیان کچھ اور کیا جائے )۔اور نفاق کی جو علامتیں آپ نے بتلائی ہیں وہ اس کی صحیح تفسیر ہیں۔جھوٹ میں انسان کا قول، وعدہ خلافی میں انسان کا فعل اور خیانت اور غداری میں اس کی نیت یہ سب واقعہ کے خلاف ہوتے ہیں۔معاہدہ توڑنا اور گالی دینا یہ بھی واقعہ کے خلاف کرنا ہے۔غرض یہ موٹی موٹی مثالیں ہیں نفاق کی حقیقت بیان کرنے کے لئے۔دل میں ایمان نہ ہو زبان پر ہو ، یہ بھی حقیقت حال کے خلاف ہے۔یا ایمان ہو مگر اقرار نہ ہو یہ بھی واقعہ کے خلاف ہے“۔( بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بڑا اچھا سمجھتے ہیں، لیکن دنیا کے سامنے اس کا اقرار نہیں کر سکتے تو یہ بھی نفاق ہے ) یا ایمان ہو اور عملاً اس کی تصدیق نہ ہو ( ایمان بھی لاتے ہوں لیکن عمل اس کے خلاف ہوں اس تعلیم کے خلاف ہوں ) یہ بھی نفاق ہے۔غرض جو بات بھی یہ رنگ رکھے گی وہ نفاق ہو گا“۔یہ معنی ہیں نفاق کے۔(ماخوذ از صحیح بخاری کتاب الایمان باب علامة المنافق حدیث 34 شرح حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب۔جلد اول صفحہ 81 مطبوعہ نظارت اشاعت ربوہ) یہ برائیاں جو آنحضرت صلی اللہ کریم نے اس حدیث میں کھول کر بیان فرمائیں اس زمانے میں ہمیں بہت زیادہ نظر آتی ہیں۔اور معاشرے کے زیر اثریقینا ہم میں سے بھی بعض ان میں سے کسی نہ کسی کا شکار ہیں یا ہورہے ہیں۔آنحضرت صلی اللی کام کے مطابق ان میں سے کسی ایک کا بھی ہونا دل کے ایک حصہ کو نفاق میں مبتلا کر دیتا ہے۔شاید انہی برائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ آنحضرت کے زمانے میں جو منافق تھے اگر وہ اس زمانہ میں ہوتے تو بڑے بزرگ اور مومن سمجھے جاتے کیونکہ شرجب بہت