خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 582
خطبات مسرور جلد نهم 582 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 نومبر 2011ء تباہ و برباد بھی ہوئے۔انہوں نے دنیاوی حاکموں کی غلامی کو احکم الحاکمین کی غلامی پر ترجیح دی۔اُس غلامی پر ترجیح دی جس غلامی سے آزادیوں کے نئے باب کھلتے ہیں۔پس آزادی کی ترجیحات بدلنے سے نہ صرف آزادی ہاتھ سے جاتی رہی بلکہ دنیاو آخرت بھی برباد ہو گئی۔پس اگر آزادی کی حقیقت کی گہرائی میں جائیں تو اصل آزادی انبیاء کے ذریعہ سے ہی ملتی نظر آتی ہے اور سب سے بڑھ کر ہمارے سامنے جو آزادی کا سورج ہے، جس کی کرنیں دور دور تک پھیلی ہوئی اور ہر قسم کی آزادی کا احاطہ کئے ہوئے ہیں، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے جنہوں نے ظاہری غلامی سے بھی آزادی دلوائی اور مختلف قسم کے طوق جو انسان نے اپنی گردن میں ڈالے ہوئے تھے ، اُن سے بھی آزاد کروایا۔بلکہ آپ کے ساتھ حقیقی رنگ میں جڑنے سے آج بھی آپ کی ذات آزادی دلوانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔جب آپ کو اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین کے خطاب سے نوازا تو آپ کی خاتمیت تمام دینی و دنیاوی حالات کا احاطہ کرتے ہوئے اُس پر مہر ثبت کر گئی۔پس اس میں کوئی شک نہیں اور اللہ تعالیٰ کی گواہی اور اعلان کے بعد کسی سعید فطرت کے ذہن میں یہ شک پیدا بھی نہیں ہو سکتا کہ صرف اور صرف مہر محمدی ہی ہے جو تمام قسم کے کمالات پر مہر ثبت کرنے والی ہے اور ان کمالات کی انتہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں ہی پوری ہوتی ہے۔پس جب ہر کام اور ہر معاملے کی انتہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو کسی بھی رنگ میں آزادی دلوانے کے کمالات بھی آپ کی ذات سے ہی پورے ہونے تھے اور ہوئے۔اور ایک دنیا نے دیکھا کہ یہ کمالات بڑی شان سے آپ کے ذریعے پورے ہوئے یا پورے ہو رہے ہیں اور جو حقیقت میں آپ کے ساتھ جڑنے والے ہیں وہ اب تک اس کا نظارہ دیکھ رہے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری ہوئی کامل کتاب جو خاتم الکتب بھی کہلاتی ہے، اس میں آزادی کے مضمون کو مختلف حوالوں اور مختلف رنگ سے بیان کیا گیا ہے اور پھر اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ اس خوبصورت تعلیم کی شان کو چار چاند لگا دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ایک جگہ فرماتا ہے فَقُ رَقَبَةٍ (البلد: 14) گردن چھڑانا۔یا اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ غلام کو آزاد کرنا یا آزادی میں مدد کرنا۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، ایک آیت کا کچھ حصہ پڑھتا ہوں کہ وائی المالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَى وَ الْمَسْكِينَ وَ ابْنَ السَّبِيلِ وَ السَّابِلِينَ وَ فِي الرِّقَابِ ( البقرة: 178) اور مال دے اُس کی محبت رکھتے ہوئے، اقربا کو، اور یتامی کو اور مساکین کو اور مسافروں کو اور سوال کرنے والوں کو اور گردنوں کے آزاد کرنے کے لئے، یعنی غلاموں کے آزاد کروانے کے لئے۔اور جو مضمون اس سے پہلے چل رہا ہے، اُس کو سامنے رکھیں تو بتایا گیا ہے کہ یہ بہت بڑی نیکی ہے۔اللہ تعالیٰ، یومِ آخر اور فرشتوں اور کتابوں اور نبیوں پر ایمان لانے کے بعد یہی نیکیاں ہیں جو بندے کو خدا کا قرب دلاتی ہیں اور ان میں غلاموں کی آزادی بھی شامل ہے۔پس ایمان کی حالت کو قائم رکھنے کیلئے، نیکیوں میں بڑھتے چلے جانے کے لئے ، نیکیوں کے اعلیٰ نمونے دکھانے کے لئے غلاموں کی آزادی یا کسی انسانی جان کو آزاد کروانا یہ ایک