خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 581
خطبات مسرور جلد نهم 581 47 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 نومبر 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ 25 نومبر 2011ء بمطابق 25 نبوت 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن، (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آج کل براعظم افریقہ کے بعض ممالک کی آزادی کی گولڈن جوبلی منائی جارہی ہے۔ان تقریبات کے منانے میں ہماری پین افریقین ایسوسی ایشن بھی حصہ لے رہی ہے۔یہ ایسوسی ایشن حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے وقت میں یہاں بنائی گئی تھی جو افریقن احمدی احباب کی ایسوسی ایشن ہے۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا ہماری یہ ایسوسی ایشن بھی افریقن ممالک کی خوشیوں میں شامل ہو رہی ہے، پروگرام بنارہی ہے۔انہوں نے مجھے بھی کہا کہ اس موقع پر جو فنکشن کیا جارہا ہے اُس میں شامل ہوں۔اُن کا جو فنکشن ہو گا اُس میں تو انشاء اللہ میں شامل ہوں گا لیکن آج آزادی کے حوالے سے آپ کے سامنے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔غلامی سے آزادی اور آزادی مذہب و ضمیر ایک بہت بڑی نعمت ہے۔افریقہ بھی وہ براعظم ہے جس کے اکثر ممالک بڑ المبا عرصہ محکوم قوم کے طور پر غلام بن کر زندگی گزارتے رہے۔اس لئے ان ممالک کی یوم آزادی کی خوشیاں اور جوبلی منانا یقینا اُن کے لئے بہت اہم ہے اور یہ اُن کا حق ہے۔اللہ کرے کہ یہ آزادی جو انہوں نے آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے مختلف ممالک سے حاصل کی، یہ حقیقی آزادی ہو اور دوبارہ وہ غلامی کی زندگی میں نہ جکڑے جائیں بلکہ اگر نیک نیتی سے ، ایمان داری سے، انصاف سے یہ اپنی اس آزادی کا فائدہ اُٹھاتے رہے تو کوئی بعید نہیں کہ آئندہ آنے والے سالوں میں ایک وقت میں براعظم افریقہ دنیا کی رہنمائی کرنے والا ہو۔اگر مذاہب کی تاریخ پر ہم نظر ڈالیں تو بانیانِ مذاہب یا انبیاء اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں جن اہم کاموں کے لئے آتے ہیں اُن میں سے ایک بہت بڑا اور اہم کام آزادی ہے۔چاہے وہ ظالم بادشاہوں اور فرعونوں کی غلامی سے آزادی ہو یا مذہب کے بگڑنے کی وجہ سے یا مذہب کے نام پر مذہب کے نام نہاد ٹھیکیداروں کے اپنے مفادات کی خاطر رسم و رواج یا مذہبی رسومات کے طوق گردنوں میں ڈالنے کی غلامی سے آزادی ہو۔ہر قسم کی غلامی سے رہائی انبیاء کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔لیکن یہ بد قسمتی ہے کہ بہت سی قوموں نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا اور آزادی کے حقیقی علم برداروں کا انکار کر کے نہ صرف اپنی حقیقی آزادی سے محروم ہوئے بلکہ خدا تعالیٰ کی پکڑ میں آکر