خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 574
خطبات مسرور جلد نهم 574 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2011ء پھر یہ لکھتے ہیں کہ ملازموں کے ساتھ بھی بہت شفقت کا سلوک تھا۔جو بچیاں گھر میں پل بڑھ کے جوان ہوئیں، اُن کا جہیز چھوٹی عمر سے ہی بنانا شروع کر دیا۔شادیوں کے اخراجات بھی ادا کئے۔بعض دفعہ دیکھنے میں آیا کہ کام کرنے والی خاتون اور اُن کی بیٹیوں نے انتہائی بد تمیزی کی۔بعض نے مشورہ دیا کہ فور فارغ کر دینا چاہئے مگر فرماتی رہیں کہ ابھی تو میں نے ان کی شادیاں کرنی ہیں۔شادی کے بعد اُن کے دکھ سکھ میں شامل ہوتی تھیں۔آج کل جو مسائل پیدا ہوتے ہیں ان میں رشتوں کو نبھانے کے لئے یہ نصیحت بھی بڑی کام کی ہے کہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ بہو کو سمجھانا ہو تو بیٹے کو نصیحت کرنی چاہئے اور اگر داماد کو سمجھانا ہو تو بیٹی کو نصیحت کرنی چاہئے۔احسان کرتے وقت طریق ایسا اختیار کرتیں کہ اگلے کو محسوس نہ ہو۔عبادات اور چندوں میں غیر معمولی با قاعدگی تھی اور کوشش ہوتی تھی کہ اپنے اوپر اگر تکلیف بھی وارد کرنی پڑے تو زیادہ سے زیادہ کریں اور ان فرائض کو کبھی پرے نہ کریں۔1944ء میں جب حضرت مصلح موعودؓ نے جائیدادیں وقف کرنے کی تحریک کی تو آپ نے اپنا تمام زیور اس میں پیش کر دیا۔تیرہ سال کی عمر میں قادیان میں منتظمہ دار المسیح کا فریضہ انجام دیا۔سیکرٹری ناصرات قادیان بھی رہیں۔ہجرت کے بعد رتن باغ اور پھر ربوہ میں خدمات سر انجام دیں۔اُن کو ہر طرح مختلف موقعوں پر خدمت کا موقع ملا اور کبھی یہ نہیں ہوا کہ اُن کو کسی عہدے کی خواہش ہو۔عہدہ رکھتے ہوئے بھی اگر ایک معمولی سا کام کہا گیا تو فوراً اُس کے لئے تیار ہو جاتی تھیں۔علمی اور انتظامی لحاظ سے، دینی تعلیم کے لحاظ سے بڑی باصلاحیت تھیں۔انہوں نے اپنے ایک انٹر ویو میں بتایا کہ رتن باغ لاہور میں ممانی جان حضرت صالحہ بیگم صاحبہ اہلیہ حضرت میر محمد اسحق صاحب کے ساتھ رات کو دورہ کرتی تھیں اور جن کے پاس اوڑھنے کو کپڑا نہیں ہو تا تھا ان کو کمبل دیا کرتی تھیں۔یہ بھی ان کا تاریخی واقعہ ہے کہ 1949ء میں حضرت مصلح موعودؓ اور حضرت اناں جان کے ساتھ اُن کی گاڑی میں ربوہ آنے کا اعزاز حاصل ہوا۔آپ فرمایا کرتی تھیں کہ یہ میری زندگی کا یاد گار واقعہ ہے۔مسجد مبارک ربوہ کی سنگ بنیاد کی تقریب میں ایک اینٹ پر دعا کرنے والی خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواتین میں شامل تھیں۔جب ربوہ آباد ہوا تو کچے مکان تھے۔ان کو وہاں بھی ربوہ کے کچے مکانوں میں لجنہ کی خدمت کی توفیق ملی۔پھر ان کو صدر لجنہ حلقہ دارالصدر شمالی بڑا لمبا عرصہ خدمت کی توفیق ملی۔1973ء سے 1982ء تک نائب صدر لجنہ ربوہ رہیں۔جب میری والدہ وہاں صدر لجنہ ربوہ تھیں تو اُس وقت اُن کے ساتھ کام کرنے کی توفیق ملی۔پھر 82ء کے بعد ایک دو سال خدمتِ خلق کی سیکرٹری لجنہ رہیں۔سیکر ٹری ضیافت بھی رہیں۔اور اسی طرح محلے کے علاوہ مختلف عہدوں پر کام کرتی رہیں۔اور ہر موقع پر جو بھی خدمت ان کے سپر د ہوئی، جو بھی عہدہ تھا بڑی عاجزی سے خدمت کیا کرتی تھیں۔ان کی ایک بیٹی نے لکھا کہ امی کی بیماری میں اگر کوئی آپ سے ملاقات کے لئے آتا اور ملاقات نہ ہو سکنے کی وجہ سے واپس چلا جاتا تو آپ کو بہت زیادہ افسوس ہو تا تھا۔ہمیں بار بار سمجھاتی تھیں کہ کوئی بھی جو ملاقات کے لئے آئے اُسے نہ روکا کرو۔کبھی منع نہ کیا کرو۔حضرت مصلح موعودؓ کی ڈیوڑھی سب کے لئے کھلی رہتی تھی، ہر کوئی مل سکتا تھا تو پھر میری طرف سے کیسے انکار ہو سکتا ہے۔پھر ایک بیٹی اُن