خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 52
خطبات مسرور جلد نهم 52 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 4 فروری 2011ء گزشتہ دنوں ایک جماعت میں خلاف تعلیم سلسلہ ایک شادی پر بعض حرکات ہو ئیں جس کی وجہ سے میں نے ان لوگوں کے خلاف تعزیری کارروائی کی۔اُن میں سے بعض ایسے تھے جو دین کا اتنا علم نہیں رکھتے تھے ، روایات سے بھی واقفیت نہیں تھی گو کہ یہ کوئی عذر نہیں ہے۔ہر احمدی کو اپنے حقیقی ایمان کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور اس کے حصول کی کوشش کرنی چاہئے۔لیکن اُن میں سے بعض ایسے بھی تھے جو دین کا علم بھی رکھتے ہیں ، جماعت کی خدمت کرنے والے بھی ہیں ، جماعتی روایات اور تعلیمات کو جاننے والے بھی ہیں۔انہوں نے بھی اُس شادی میں شامل ہو کرمداہنت دکھائی، کمزوری دکھائی اور برائی سے روکنا تو ایک طرف رہا وہاں بیٹھ کر وہ سب کچھ دیکھتے رہے جو لغویات ہوتی رہیں اور بجائے اس کے کہ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَر پر عمل کرتے اُس برائی کا حصہ بن گئے اور بعد میں مجھے لکھ دیا کہ ہم تو اُن کی اصلاح کے لئے شامل ہوئے تھے۔یہ عجیب اصلاح ہے کہ نہ اُن لوگوں کو برائی سے روکنے کی طرف توجہ دلائی، نہ نیکی کی تلقین کی اگر کوئی نیکی کی تلقین کی بھی تو مختلف موضوع پر۔یہ عجیب اصلاح ہے کہ برائی کسی اور قسم کی ہو رہی ہے ، اسے دیکھ کر تو اس میں شامل ہو رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ نیکی کی تلقین کی، جو پتہ نہیں حقیقت میں کی بھی گئی کہ نہیں کی گئی لیکن اگر کی بھی تھی تو اس برائی کو روکنے کے لئے نہیں کی گئی بلکہ اور قسم کی نیکیوں کی تلقین کی جاتی رہی۔یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کسی چور کو چوری کرتے ہوئے دیکھ لیں اور اسے روکنے کی بجائے، اسے پکڑنے کی بجائے، کسی کا نقصان ہونے سے بچانے کی بجائے اُس چوری میں اُس کی مدد کر دیں اور پھر بعد میں اس سے کہہ دیں کہ سچ بولنا بڑی اچھی بات ہے۔سچ بولنا تو یقینا اچھی بات ہے لیکن اُس وقت نیکی کی تلقین یا اس برائی سے روکنا چور کو چوری سے باز رکھنا تھا۔پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان ہے تو ایک احمدی کو معاشرے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے۔بلکہ دین کو مقدم رکھنا ضروری ہے۔آپ نے تو اپنی اولاد اور اپنے ماننے والوں کے لئے یہ دعا کی ہے کہ رعب دجال ان پر نہ آئے۔تو مغرب میں رہنے والے اگر اس رُعب دجال کے اندر آگئے تو پھر رہ کیا گیا۔یہ جو واقعہ ہوا اس میں بہت سے لوگ ملوث تھے جیسا کہ میں نے کہا تو مجھے یہ کہا گیا کہ بہت سارے لوگ ہیں اس سے جماعت میں بے چینی پیدا ہو جائے گی۔اُن کو میں نے یہی جواب دیا تھا کہ سزا تو بہر حال ملے گی۔اگر جماعت میں بے چینی پیدا ہوتی ہے، کچھ لوگ ٹوٹتے ہیں، جاتے ہیں تو بیشک چلے جائیں مجھے اس کی پر واہ نہیں ہے۔لیکن ہو گا وہی جو اسلام ہمیں سکھاتا ہے، جس کی تعلیم ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دی ہے، برائیوں اور لغویات سے بچنا۔قول اور فعل کا جو تضاد ہے اُس کو خد اتعالیٰ نے بھی اور اللہ تعالیٰ کے رسول نے بھی ناپسند فرمایا ہے۔پہلے بھی میں کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں، مجھ سے پہلے خلفاء بھی کہہ چکے ہیں کہ اس قسم کی شادیوں اور فنکشنوں پر سے احمدیوں کو اگر وہ کسی احمدی کے گھر میں ہو رہے ہیں تو اٹھ کر آجانا چاہئے۔ورنہ یہ بزدلی ہے اور معاشرے کی محبت کا اللہ تعالیٰ کی محبت پر حاوی ہونا ہے اور یہ عمل اُس برائی کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اس بات کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔