خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 573
573 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم والے لڑکے نے جو جو ان ہے بلکہ بڑی عمر کا ہو گا، اُس نے مجھے لکھا کہ محترمہ بی بی جان کی وفات پر ہمارے دل کو بہت صدمہ پہنچا ہے کیونکہ ہم ایک نہایت نیک، دعا گو اور بزرگ ہستی سے محروم ہو گئے۔پھر آگے لکھتے ہیں کہ بی بی جی نہایت نیک دعا گو ، غریبوں اور مستحق لوگوں کی مدد کرنے والی، خدا ترس عورت تھیں۔ہمیشہ سے ہمیں خلافت سے چھٹے رہنے کی تلقین کیا کرتی تھیں اور خلیفہ وقت کے احکامات کی تکمیل کے لئے موقع ڈھونڈھتی رہتی تھیں۔پھر کہتے ہیں کہ محلے میں لجنہ کے کام بھی کرتی تھیں تو اکثر لجنہ کا جو ”مصباح “ رسالہ ہے ، اس کا چندہ وغیرہ لینے کے لئے جو ممبرات تھیں اُن کے پاس مجھے بھیجا کرتی تھیں اور اگر کسی کے گھر سے دیر ہو جاتی یا چندہ نہیں آتا تھا تو اپنے پاس سے دے دیا کرتی تھیں اور یہی فکر رہتی تھی کہ چندے جمع کروانے میں لیٹ نہ ہوں۔پھر یہ لکھا کہ کبھی کبھی بازار سے سودا لینے بھیجتیں تو پیسے تھوڑے ہو جاتے۔میں اپنی طرف سے خرچ کر لیتا تو کہتیں فور میرے سے لے لیا کرو۔میں کسی کا مقروض نہیں رہنا چاہتی۔اسی طرح یہ لکھنے والے ( ممتاز نام ہے اس کا) لکھتے ہیں کہ پھر جس مہینے کوئی زیادہ شادی کارڈ آتے تو مجھے فرماتیں کہ ان تمام کارڈ کی لسٹ بناؤ اور مجھے یاد کرا دینا اور بتاتی تھیں کہ خاندان کی یا بزرگوں کی جو سابقہ خادمہ یا پرانی خادمائیں تھیں اُن کے ضرور جاتی تھیں، یا کہتیں کہ ایک غریب لڑکی کی شادی ہے یہ ضرور یاد کرانا اور بعض اوقات دن میں تین تین بار کہتی تھیں کہ میں نے اس غریب لڑکی کی شادی پر ضرور جانا ہے، تیار رہنا۔اور اسی طرح اُن کی اور نصیحتیں ہیں۔ان کے داماد سید قاسم احمد نے لکھا ہے کہ خلیفہ وقت سے محبت اور اطاعت میں خالہ نے محلے کی لجنہ میں جس کی وہ صدر رہی ہیں بہت غیر معمولی اثر پیدا کیا تھا۔اس معاملے میں کسی دلیل کی ضرورت نہیں تھی بلکہ ایک فطری جذبہ تھا۔جس دن وفات ہوئی ہے صبح بار بار کہہ رہی تھیں کہ حضور کی خدمت میں میرے لئے دعا کی درخواست کر دو۔معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اپنی وفات کا اندازہ تھا کیونکہ اپنی ایک نواسی کو انہوں نے اپنی فوت شدہ ایک بھابھی کے بارے میں کہا کہ وہ آئی ہیں۔بیٹیوں کو بلا کر پیار کیا اور کہا کہ مجھے معاف کر دینا۔بے شمار خوبیاں تھیں۔بطور ماں اور ساس اور بیوی کے ان کا نمونہ نہایت اعلیٰ تھا۔اپنے میاں مرحوم کے مزاج کے مطابق اُن کا ہمیشہ خیال رکھا اور کبھی کوئی شکوے کا موقع نہیں دیا۔یہ جو پرانے بزرگ ہیں ان کی مثالیں میں اس لئے بھی پیش کرتا ہوں کہ ہمارے نئے جوڑوں کو ، ایسے خاندانوں کو، میاں بیوی کو جن کے مسائل پیدا ہوتے ہیں ان پر بھی غور کرنا چاہئے۔خاص طور پر لڑکیوں کو ، عورتوں کو اس بات کا خوب خیال رکھنا چاہئے کہ اُن کی سب سے پہلی ذمہ واری اپنے گھروں کو سنبھالنا ہے۔پھر لکھتے ہیں اپنے میاں کی کامل اطاعت کی اور بیٹیوں کو بھی اپنے خاوندوں کے بارے میں یہی نصیحت کی کہ اپنے خاوندوں کا خیال رکھا کرو۔کبھی اپنے میاں سے اُن کو بحث کرتے نہیں دیکھا۔نصیحت کر تیں تو اکثر حضرت مسیح موعود، حضرت مصلح موعود اور حضرت اماں جان کا ذکر ہوتا۔غصہ اگر کبھی آیا بھی تو بہت تھوڑی دیر کے لئے اور پھر وہی شفقت والا انداز ہوتا۔اور لڑکیوں کو ، خاندان کی لڑکیوں کو ہمیشہ نصیحت کیا کرتی تھیں کہ ان کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم سے کسی کو ٹھو کر نہیں لگنی چاہئے۔اللہ کرے کہ ان کی یہ دعائیں اور یہ نصیحتیں اُن کی بچیوں کے بھی اور خاندان کی دوسری بچیوں کے بھی کام آنے والی ہوں۔