خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 572
572 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم اُن کی ایک بھانجی نے مجھے بتایا کہ ایک موقع پر اُن سے اور ایک کزن سے غیر ارادی طور پر ایک ایسی غلطی ہوئی جس غلطی میں لطیفہ بھی تھا۔دونوں بے چین تھیں کہ کسی بڑے کو بھی اس میں شامل کیا جائے لیکن جس طرف نظر دوڑاتے تھے یہی نظر آتا تھا کہ ڈانٹ پڑے گی۔آخر دونوں ان کے پاس آئیں۔انہوں نے بڑے تحمل سے ان کی بات سنی۔لطیفہ بھی ایسا تھا کہ ہنسی بھی آئی اور پھر اُن کو پیار سے ڈانٹا بھی اور بتایا کہ ایسے موقع پر اسلامی تعلیم اس طرح کی ہے۔تو کوئی موقع بھی اسلامی تعلیم کا، احمدیت کی روایات بیان کرنے کا ضائع نہیں کرتی تھیں۔جب بھی موقع ملتا اس لحاظ سے سمجھانے کی کوشش کرتیں۔اور ان کی یہ ساری باتیں اسی کے گرد گھومتی ہیں۔ساتھ ہی یہ بھی خاندان کی بچیوں کو سمجھاتیں کہ تمہارا اپنا ایک وقار ہے۔تم لوگوں کو اُس کے اندر رہنا چاہئے۔میں پہلے بھی جب اُن کے گھر گیا ہوں تو ہمیشہ خوب خاطر مدارات کی جس طرح کہ بڑوں کی کی جاتی ہے۔اور خلافت کے بعد تو ان کا تعلق پیار اور محبت کا اور بھی بڑھ گیا۔اطاعت اور احترام بھی اُس میں شامل ہو گیا۔باقاعدہ دعا کے لئے خط بھی لکھتی تھیں، پیغام بھی بھجواتی تھیں۔خلافت کے ساتھ اظہار غیر معمولی تھا۔یہاں دو مرتبہ جلسے پر آئی ہیں۔انتہائی ادب اور احترام اور خلافت کا انتہا درجے میں پاس جو کسی بھی احمدی میں ہونا چاہئے وہ اُن میں اُس سے بڑھ کر تھا۔اس حد تک کہ بعض دفعہ اُن کے سلوک سے شرمندگی ہوتی تھی۔جب بھی آتی تھیں تو یہی فرمایا کہ ہر سال آنے کو دل چاہتا ہے لیکن عمر کی وجہ سے سوچتی ہوں اور پھر بعض دفعہ پروگرام بنا کے پھر عمل درآمد نہیں ہو تا تھا۔جیسا کہ میں نے کہا، حضرت اماں جان ( اُم المومنین کے پاس بڑا عرصہ رہی ہیں۔جب میری والدہ کی شادی ہو گئی تو زیادہ عرصہ پھر حضرت اماں جان کے پاس ہی رہی ہیں۔بہت روایات اور واقعات حضرت اماں جان کے اُن کو یاد تھے۔یہاں بھی جب ایک سال ایک جلسے پر آئی تھیں تو لجنہ یو کے کو کچھ ریکارڈ کروائے تھے، صدر صاحبہ لجنہ نے اس کا انتظام کیا تھا۔وہ واقعات جو حضرت اماں جان کے ہیں اگر ان کے حوالے سے شائع نہیں ہوئے تو لجنہ کو شائع کرنے چاہئیں۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ایک مرتبہ اپنی دو بیویوں کی حضرت اناں جان کے ہاں رات کی ڈیوٹی لگائی کہ باری باری جایا کریں۔جب اُن کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو حضرت اناں جان نے فرمایا کہ میرے لئے تو یہ بچی ٹھیک ہے۔مجھے اسی کی عادت ہو گئی ہے۔کسی اور کو میرے پاس بھیجنے کی ضرورت نہیں۔حضرت اماں جان بھی آپ سے بہت محبت اور پیار کا سلوک کرتی تھیں۔جب آپ کی شادی ہوئی تو حضرت اماں جان بہت اداس رہنے لگی تھیں۔جب کچھ دنوں کے بعد ملنے واپس آئی ہیں تو حضرت خلیفہ المسیح الثانی ان کو بازو سے پکڑ کر حضرت اماں جان کے پاس لے گئے اور کہا یہ لیں آپ کی بیٹی ملنے آئی ہے۔تو حضرت اناں جان کا بھی بہت پیار کا سلوک تھا۔خلافت کے تعلق میں بات کر رہا تھا۔خلافت سے محبت اور وفا کے ضمن میں یہ بھی بتادوں کہ وہ اس میں اس قدر بڑھی ہوئی تھیں کہ کسی بھی قریبی رشتے کی پرواہ نہیں کرتی تھیں اور اس وجہ سے بعض دفعہ ان کو بعض پریشانیاں بھی اُٹھانی پڑیں لیکن ہمیشہ خلافت کے لئے وہ ایک ڈھال کی طرح کھڑی رہیں۔اُن کے گھر میں پلنے بڑھنے