خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 570 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 570

570 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہے۔جو بھی خلفاء ہوں گے وہ پچھلے خلفاء کی تحریر میں ) اگر کہیں غلط روایت آجاتی ہے تو وہ اپنی ہدایت کے مطابق ٹھیک کریں گے لیکن من و عن اُس کو بغیر تحقیق کے شائع کر دینا غلط طریق ہے جبکہ دوسری روایات موجود ہوں یا بعض روایات مشکوک ہوں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اس کے بارے میں فیصلہ ہو تو پھر پوری تحقیق ہونی چاہئے۔بہر حال اس وضاحت کو میں ضروری سمجھتا تھا اور جیسا کہ میں نے کہا اس کا یہ فائدہ سب کو ہو گیا ہے کہ واقعاتی اور علمی صورت بھی سامنے آگئی ہے۔اس کی بھی اصلاح ہو گئی اور بعض ضمنی علمی باتیں بھی سامنے آگئیں اور انتظامی رہنمائی بھی ہو گئی۔اب اس کے بعد میں جس مضمون کی طرف آنا چاہتا ہوں وہ گزشتہ دنوں وفات پانے والے چند بزرگان کا ذکر خیر ہے جن میں سے سب سے پہلے میں بیان کروں گا کہ گزشتہ ہفتہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی صاحبزادی امتہ النصیر بیگم صاحبہ جو میری خالہ بھی تھیں اُن کی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُون۔وفات کے وقت آپ کی عمر 82 سال تھی اور ماشاء اللہ آخر وقت تک ایکٹو (Active) تھیں۔تین چار دن پہلے دل کی تکلیف ہوئی۔ہسپتال میں داخل ہوئیں۔ڈاکٹر نوری صاحب نے علاج کیا۔ایک نالی کی اینجو پلاسٹی وغیرہ بھی ہوئی۔اُس کے بعد ٹھیک بھی ہو رہی تھیں لیکن لگتا ہے کہ پھر دو تین دن بعد دوبارہ اچانک ہارٹ اٹیک ہوا ہے جو جان لیوا ثابت ہوا۔ہسپتال میں ہی تھیں۔اور اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہو گئیں۔مرحومہ بہت ہنس مکھ ، خوش مزاج اور دوسروں کا ہر طرح سے خیال رکھنے والی تھیں۔ظاہری مالی مدد بھی اور جذبات کا خیال رکھنا بھی آپ کا خاص وصف تھا۔ان کے جاننے والوں کے جو تعزیت کے خط مجھے آرہے ہیں، اُن میں یہ بات تقریباً اُن کے ہر واقف نے لکھی ہے کہ اُن جیسے بے نفس اور دوسروں کے احساسات اور جذبات کا گہرائی سے خیال رکھنے والے ہم نے کم دیکھے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری ان خالہ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور اپنے پیاروں میں انہیں جگہ دے۔ان کی پیدائش اپریل 1929ء میں حضرت سیدہ سارہ بیگم صاحبہ کے بطن سے ہوئی تھی جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی حرم ثالث تھیں، تیسری بیوی تھیں۔آپ کی والدہ ماجدہ کی وفات جب ہوئی ہے تو صاحبزادی امۃ النصیر بیگم صرف ساڑھے تین سال کی تھیں۔تو آپ کے بچپن کے جذبات اور احساسات کا نقشہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اپنے ایک مضمون میں کھینچا ہے۔وہ ایسا نقشہ ہے جسے پڑھ کر انسان جذبات سے مغلوب ہوئے بغیر نہیں رہتا۔میں اپنے آپ پر بڑا کنٹرول رکھتا ہوں۔کم از کم علیحدگی میں جب پڑھ رہا تھا تو کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔بہر حال اُس میں سے کچھ حصے جو ان کے بچپن سے ہی اعلیٰ کردار کے متعلق ہیں میں بیان کروں گا۔اور اس میں بھی ہر ایک کے لئے بڑے سبق ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ ان کی عمر صرف ساڑھے تین سال تھی جب ان کی والدہ فوت ہوئیں۔لیکن اس بچپنے میں بھی ایک نمونہ قائم کر گئیں۔اور وہ مضمون جو حضرت خلیفتہ المسح الثانی نے لکھا ہے بڑا تفصیلی مضمون ہے۔