خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 561 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 561

561 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہے، انشاء اللہ۔تو پھر تمہارے مکر، تمہارے تمام حیلے، تمہاری معصوم بچوں کو تنگ کرنے کی کوششیں، تمہاری احمدی ملازموں کو تنگ کرنے کی کوششیں، تمہاری احمدی کاروباری لوگوں کو تنگ کرنے کی کوششیں، تمہاری راہ چلتوں پر مقدمے قائم کرنے کی کوششیں اللہ اور اُس کے رسول کے غلبے کو روک نہیں سکتیں۔اگر یہ بندوں کا کام ہو تا تو بیشک تمہاری طاقت کام آسکتی تھی لیکن یہ خدا کا کام ہے اور انجام کار اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہی غالب آتی ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے اِنَّ اللهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ کہا ہے تو یہ اعلان فرمایا ہے کہ یہ کام میں نے کرنا ہے اور یہاں تعداد کی قلت اور کثرت یا مال و دولت کی قلت یا کثرت یا سازو سامان کی قلت یا کثرت کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔کیا جنگ بدر میں یا جنگ اُحد میں یا کسی بھی جنگ میں مال و دولت کی کثرت نے وہ نتائج مترتب کئے تھے جو ظاہر ہوئے۔یقینا نہیں۔ہاں ایک بات یقینا ہے کہ باوجود خدا تعالیٰ کے وعدوں کے ، باوجود خدا تعالیٰ کی یقین دہانیوں کے، باوجود خدا تعالیٰ کے روشن نشانوں کے اللہ تعالیٰ کے رسول معمولی ظاہری کو شش اپنے وسائل کے مطابق ضرور کرتے ہیں۔لیکن اصلی توجہ اُن کی دعاؤں کی طرف ہوتی ہے اور اس میں سب سے بڑھ کر کامل نمونہ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا۔بدر کی جنگ ہمیں اس کا عظیم نظارہ پیش کرتی ہے۔باوجو د تمام تر تسلیوں اور وعدوں کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے چینی اور بے چین کیفیت میں دعائیں اور جو حالت تھی اور جو رقت تھی اور ایک ایسی حالت تھی کہ یوں لگتا تھا جس طرح بار بار کوئی جان کنی کی حالت ہو۔بار بار آپ کی چادر اس رقت کی وجہ سے کندھے سے اتر جاتی تھی جو دعاؤں میں پیدا ہو رہی تھی۔(شرح العلامة الزرقانی جلد نمبر 2 باب غزوة بدر الكبری صفحہ نمبر 281 تا 284 دار الكتب العلمیة بیروت 1996ء) پس جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آتے ہیں تو اللہ کے رسول بھی خدا تعالیٰ میں ڈوب کر الہی فیصلوں کا حصہ بننے کی کوشش کرتے ہیں اور حصہ بن جاتے ہیں۔اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اور تربیت نے وہ صحابہ پیدا کئے جن کے دن جنگوں میں مصروف ہوتے تھے تو راتیں عبادتوں میں۔دنیاوی لحاظ سے دیکھیں تو کوئی بھی جنگ جو مسلمانوں نے لڑی کسی نسبت کے بغیر تھی۔مسلمانوں میں اور مخالفین میں، دشمنوں میں کوئی نسبت ہی نہیں تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ سے تعلق اور عبادتوں نے انہیں اللہ اور رسول میں فنا ہو کر غلبے کا حصہ بنا دیا۔یہ بھی ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ دن کے وقت بھی باوجود دشمنوں کے حملوں کے اور جنگوں کے اور سخت حالات کے فرض نمازوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کبھی غافل نہیں ہوئے۔ایک موقع ایسا آیا کہ دشمن کے تابڑ توڑ حملوں کی وجہ سے مسلمانوں کو موقع نہیں ملا کہ نمازیں پڑھ سکیں اور نماز کا وقت نکل گیا اور پانچ نمازیں جمع کر کے پڑھنی پڑیں۔اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اتناصدمہ تھا کہ آپ نے دشمنوں کو یہ کہہ کر بد دعادی کہ براہو، ہلاک ہو دشمن جس کی وجہ سے ہمیں نمازیں اکٹھی پڑھنی پڑیں۔پس کسی جانی مالی نقصان کی وجہ سے آپ کبھی پریشان نہیں ہوئے اور نہ دشمن کے حق میں بد دعادی۔مگر یہ موقع آیا تو صرف اس وجہ سے کہ آج دشمن نے ہمیں وقت پر عبادت کرنے کا، اپنے خدا کے حضور جھکنے کا موقع نہیں دیا۔باوجود اس کے نوٹ۔وضاحت کے لئے دیکھیں صفحہ نمبر 566 تا570