خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 533 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 533

خطبات مسرور جلد نهم 533 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 اکتوبر 2011ء نے جماعت احمد یہ بیلجیم کو اپنا تعاون اور مدد فراہم کی تھی۔لہذا اب میں اس موقع پر (میرا کہا کہ) خلیفتہ المسیح کا خطاب سننے کے بعد بھی بہت خوش ہوں اور یقین کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں کہ میر اجماعت کی مدد اور تعاون کا فیصلہ بالکل درست تھا اور مجھے خلیفہ المسیح کی یہ بات سن کر بہت خوشی ہوئی کہ یہ مسجد صرف ایک مسجد ہی نہیں بلکہ یہ مسجد بیلجیم اور اس علاقے کے عوام کے لئے امن اور محبت کا ایک نشان اور علامت بھی ہے۔پس ہر لحاظ سے یہ دورہ بابرکت ہوا۔اللہ تعالیٰ نے بڑی برکت ڈالی۔بیجیم میں ایک طبقہ جو اسلام کے خلاف ہے انہوں نے کچھ دن پہلے علاقے میں شدید اشتہار بازی کی تھی کہ اس مسجد کو نہیں بنے دینا چاہئے اور پھر جلوس کی تاریخ مقرر کی، دو دن پہلے جلوس نکالا تھا۔ہفتے کو بنیاد رکھی گئی۔جمعرات کو جلوس تھا۔لیکن پھر جلوس میں اس دن تو کوئی چند لوگوں کی معمولی تعداد شامل ہوئی اور کسی نے توجہ نہیں دی۔اللہ تعالیٰ نے ایسا ماحول کو پھیرا ہے کہ وہاں کی انتظامیہ کو جو فکر تھی، بالکل غائب ہو گئی۔بہر حال یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”ہماری کوششیں تو بچوں کا کھیل ہے۔نہ لوگوں کے دلوں سے ہم وہ گند نکال سکتے ہیں جو آجکل دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے ، نہ کمال محبت الہی کا اُن کے اندر بھر سکتے ہیں۔نہ اُن کے درمیان باہمی کمالِ اُلفت پیدا کر سکتے ہیں جس سے وہ سب مثل ایک وجود کے ہو جائیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں صحابہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا ہے۔هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَ بِالْمُؤْمِنِينَ وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا الفتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حکیم۔(الانفال : 64،63) وہ خدا جس نے اپنی نصرت سے اور مومنوں سے تیری تائید کی اور ان کے دلوں میں ایسی الفت ڈالی کہ اگر تو ساری زمین کے ذخیرے خرچ کر تا تو بھی ایسی الفت پیدا نہ کر سکتا، لیکن خدا نے ان میں یہ الفت پیدا کر دی۔وہ غالب اور حکمتوں والا خدا ہے۔جس خدا نے پہلے یہ کام کیا وہ اب بھی کر سکتا ہے۔آئندہ بھی اسی پر توکل ہے۔جو کام ہونے والا ہوتا ہے اس میں خدا کے فضل کی روح پھونکی جاتی ہے۔جیسا کہ باغبان اپنے باغ کی آبپاشی کرتا ہے تو وہ تر و تازہ ہو تا ہے۔ایسا ہی خدا تعالیٰ اپنے مرسلین کے سلسلہ کو ترقی اور تازگی عطا فرماتا ہے۔جو فرقے صرف اپنی تدبیر سے بنتے ہیں ان کے درمیان چند روز میں ہی تفرقے پیدا ہو جاتے ہیں جیسا کہ بر ہمو تھوڑے دن تک ترقی کرتے کرتے آخر رک گئے اور دن بدن نابود ہوتے جاتے ہیں کیونکہ ان کی بنا صرف انسانی خیال پر ہے“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 332-333 مطبوعہ ربوہ) پس یہ اللہ تعالیٰ کی جماعت ہے اس نے ترقی کرنی ہے اور کرتی چلی جارہی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنی جو بھی معمولی سی، حقیر سی کوششیں ہیں وہ کرنے کی توفیق دے تا کہ ہم اس ثواب میں حصے دار بن جائیں۔اللہ تعالیٰ