خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 522
خطبات مسرور جلد نهم 522 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21اکتوبر 2011ء میں جانتا ہوں کہ خدا نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے اور اُسی کے فضل سے اس کا نشو و نما ہو رہا ہے۔اصل یہ ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کا ارادہ نہ ہو کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی اور نہ اُس کا نشو و نما ہو سکتا ہے۔لیکن جب اللہ تعالیٰ کسی کے لئے چاہتا ہے تو وہ قوم بیج کی طرح ہوتی ہے۔جیسے قبل از وقت بیچ کے نشو نما اور اُس کے آثار کو کوئی نہیں سمجھ سکتا اس قوم کی ترقیوں کو بھی محال اور نا ممکن سمجھتے ہیں“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 333 حاشیہ، مطبوعہ ربوہ) پس یہ خدا تعالیٰ کی جماعت ہے۔ہر آن اللہ تعالیٰ کی نصرت ہمیں جماعت کے ساتھ نظر آتی ہے۔جماعتی ترقی دیکھ کر دنیادار اور مخالفین احمدیت اور زیادہ بوکھلا گئے ہیں اس لئے جماعت کی دشمنی بھی آجکل زوروں پر ہے۔میں گزشتہ خطبوں میں اس کی طرف توجہ بھی دلا چکا ہوں لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے یہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ جماعت ترقی کرے اور اسلام کا غلبہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے ذریعے سے ہو اور یہ ہو گا انشاء اللہ تعالی۔ان مخالفین کی تمام کوششیں اور دشمنیاں رائیگاں جائیں گی اور ہر سعید فطرت اس جماعت کی آغوش میں آئے گا۔انشاء اللہ۔بہر حال جیسا کہ میں ہر سفر کے بعد عموماً سفر کے حالات مختصر آبیان کرتا ہوں آج بھی آپ کے سامنے کچھ بیان کروں گا۔تفصیلات تو جور پورٹس الفضل میں شائع ہو رہی ہیں، اُن میں کچھ حد تک آجائیں گی۔بعض باتیں میں بیان کر دیتا ہوں جس سے اللہ تعالیٰ کے مختلف رنگ میں جو فضل ہو رہے ہیں اُن پر کچھ روشنی پڑتی ہے۔اپنوں کو ، احمدیوں کو تو دوروں کے دوران ملنے سے فائدہ ہوتا ہی ہے۔غیروں کو ، دنیا داروں کو جن کی اسلام کی طرف توجہ ہو رہی ہے اُن کو بھی فائدہ ہو رہا ہوتا ہے۔اسلام کی اصل تصویر پیش کرنے کا موقع ملتا ہے۔بعض پڑھے لکھے اور سیاستدان یا حکومت کے سر کردہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید دنیاوی فائدے کی خاطر یا ماحول کو بہتر کرنے کی خاطر اپنے اپنے ماحول میں احمد کی اپنے ملنے جلنے والوں کو امن اور محبت کا پیغام دیتے ہیں اور اسلام کی ایک خوبصورت تصویر دکھاتے ہیں۔اکثر جگہ میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ لوگ میرے سے براہ راست سننا چاہتے ہیں کہ احمدیت کیا ہے؟ بیشک اُن کو پہلے احمدیوں نے بتایا بھی ہو۔لیکن اپنی تسلی کے لئے وہ چاہتے ہیں کہ خود میرے سے سنیں۔پس ان ملاقاتوں سے جو غیروں کے ساتھ ہوتی ہیں، علاوہ دوسری باتوں اور تعلقات کی وسعت کے ، اسلام کے بارے میں خاص طور پر پڑھے لکھے لوگوں کے ذہنوں سے، شکوک و شبہات دور کرنے کا موقع ملتا ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا اور بعض موقعوں پر اس کا ذکر بھی کر چکا ہوں کہ جر منی جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ اور تعلقات کی وسعت میں ایک خاص کوشش کر رہی ہے۔اب ان کی کوششیں جو ہیں وہ پہلے سے بہت بڑھ کر ہیں اور اس کی وجہ سے اسلام کا پیغام اور جماعت کا تعارف بہت بڑھ کر جرمن قوم میں پہنچ رہا ہے۔اس مرتبہ بھی انہوں نے ان تعلقات رکھنے والے بعض پڑھے لکھے لوگوں کو مجھ سے ملوانے کا انتظام کیا ہوا تھا، بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ اُن کو ہمارے نوجوانوں نے ملوانے کا انتظام کیا تھا۔چنانچہ فرینکفرٹ میں تو یونیورسٹی کے دو پروفیسر