خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 521 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 521

خطبات مسرور جلد نهم 521 42 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21اکتوبر 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ 21اکتوبر 2011ء بمطابق 21اخاء 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن، (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے زائد عرصہ یورپ کے مختلف ممالک کے دورے پر رہا ہوں جس میں جرمنی، ناروے، ہالینڈ، ڈنمارک، بیلجیم وغیرہ شامل تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس دورے کے دوران ہر آن اللہ تعالیٰ کے فضل دیکھے۔ہمیشہ کی طرح جہاں جماعتوں کے اندر بھی ایمان و اخلاص اور وفا کے نمونے نظر آئے وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے غیروں میں بھی جماعت کا اثر اور غیروں کی جماعت کے ساتھ تعلق بڑھانے اور قائم کرنے کی کوشش اور اسلام کو سمجھنے کی طرف غیر معمولی توجہ بھی پہلے سے زیادہ نظر آئی۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ جماعت کا ہر قدم جو ترقی کی طرف اٹھتا ہے ، ہماری کوشش سے بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو تعارف اور آپ کے حوالے سے اسلام کا جو حقیقی پیغام دنیا کو پہنچ رہا ہے، اس کے مثبت نتائج نکل رہے ہیں۔اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت پر ایک احمدی کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔اگر صرف انسانی کوششوں کا سوال ہو تو ہماری دنیاوی لحاظ سے بالکل چھوٹی سی جماعت کی طرف کبھی کسی کی نظر نہ ہو۔پس یہ توجہ اور ترقیات کے خدائی وعدے ہیں جو پورے ہو رہے ہیں اور ہمیں نظر آتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔”ہماری جماعت کے متعلق خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے وعدے ہیں۔کوئی انسانی عقل یا دوراندیشی یا دنیوی اسباب ان وعدوں تک ہم کو نہیں پہنچا سکتے“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 333 مطبوعہ ربوہ ) پھر اس بات کا اظہار فرماتے ہوئے کہ جو لوگ ہمارے مخالف ہیں، سمجھتے ہیں کہ اپنے خیال سے اور دنیاداری کی طرز پر یہ بھی کوئی فرقہ بن گیا ہے جیسا کہ آج کل بھی مسلمانوں کی اکثریت جماعت کے متعلق یہ خیال کرتی ہے یا اکثریت کو اُن کے علماء نے اس طرف ڈال دیا ہے کہ شاید یہ بھی کوئی دنیاوی تنظیم ہے اور طرح طرح ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بدنام کیا جاتا ہے ، آپ کو طرح طرح کے نام دیئے جاتے ہیں اور ہمارے دلوں پر نیش زنیاں کی جاتی ہیں۔بہر حال جو بھی یہ لوگ سمجھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :