خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 519 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 519

خطبات مسرور جلد نهم 519 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 اکتوبر 2011ء سیر الیون کے امیر صاحب بیان کرتے ہیں کہ حسن کمارا صاحب سیکنڈری سکول لنگی میں لینگوئج اور آرٹ کے استاد ہیں۔انہوں نے 2006ء میں خواب دیکھا کہ آسمان پر بہت ہی خوشخط اور روشن الفاظ میں یہ تحریر لکھی ہوئی ہے کہ "The Allah is greatest"۔چونکہ یہ اُس وقت عیسائی تھے ، ایک خدا کو نہیں مانتے تھے لیکن پوری تسلی بھی نہیں تھی کہ عیسیٰ جو کہ خدا کے نبی ہیں وہ خدا کیسے ہو سکتے ہیں ؟ کہتے ہیں یہ تحریر دیکھتے ہی خوف سے اُن کا جسم کانپنے لگا اور گھبر اہٹ سے آنکھ کھل گئی۔2008ء میں پھر اس سے ملتی جلتی خواب دیکھی کہ آسمان پر ایک روشنی کا بہت بڑا گولا نمودار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے پھٹ گیا اور اندر سے یہی الفاظ The Allah is" greatest نکل کر آسمان پر پھیل گئے۔پھر جولائی 2008ء میں خلافت جوبلی سوونیئر جو پاکستان سے شائع ہوا ہے خریدا اور مطالعہ شروع کر دیا۔اور آہستہ آہستہ خدا کے فضل سے احمدیت کی طرف مائل ہونا شروع ہو گئے۔بہت سے سوالوں کے جوابات بھی اُن کو اس سوونیئر کے مطالعے سے مل گئے۔2009ء میں پھر ایک خواب دیکھی کہ وضو کر رہے ہیں اور تیاری کے بعد احمد یہ مسجد میں نماز کے لئے جاتے ہیں۔جب پہنچتے ہیں تو باجماعت نماز ختم ہو چکی ہوتی ہے۔کہتے ہیں کہ نماز باجماعت کے Miss ہونے کا بہت افسوس ہوتا ہے۔اس کے بعد ان کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ستمبر 2010ء میں مبلغ سلسلہ نے انہیں گھر بلایا اور پوچھا کہ بیعت کیوں نہیں کرتے ؟ کہنے لگے کہ ابھی کچھ سوالات باقی ہیں۔جب اُن کے جوابات ملیں گے تو بیعت کر لوں گا۔اس سال جنوری 2011ء میں اپنے سوالات کے جوابات حاصل کر کے بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو چکے ہیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ بھی بڑے شوق سے کر رہے ہیں۔الحمد للہ۔ایک ریڈیو جر نلسٹ مسٹر جین ٹیگامبو (Jaen Tangambu) ہماری نمائش میں آئے۔انہوں نے کہا کہ ”آج پہلی دفعہ اسلام کا پیغام سمجھا ہے۔آج اسلام کو دریافت کیا ہے۔آج اسلام کو بطور مذہب مانا ہے۔میں اسلام کو بہت برا سمجھتا تھا۔آج پہلی دفعہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو سمجھا ہوں“۔پھر ایک مہمان فوسٹن امبوائی (Fostin Maboyi) نے کہا ”سنا تھا کہ مسجد جادو نگری ہوتی ہے۔آج پہلی بار مسجد میں داخل ہو کر جماعت احمدیہ کی مسجد میں داخل ہو کر پتہ چلا کہ یہ جگہ تو بہت پر سکون ہے“۔پس جب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے نظارے دکھا رہا ہے، خود سعید فطرت انسانوں کی دنیا میں ہر جگہ رہنمائی فرمارہا ہے اور گھیر گھیر کر جماعت میں شامل کر رہا ہے جو مسیح محمدی کو پہچان کر اس سے ایک پختہ تعلق جوڑ رہے ہیں تو پھر ہمیں ان مخالفین احمدیت کی روکوں اور مخالفتوں اور گالیوں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ہاں مخالفین احمدیت یا مخالفین اسلام جب ہمارے پیارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں اور آپ کے عاشق صادق کے لئے بیہودہ گوئی کرتے ہیں تو ہمارے دل ضرور چھلنی ہوتے ہیں اور اُس کا ایک ہی علاج ہے کہ دعاؤں کے لئے اللہ تعالیٰ کے آگے جھک جائیں۔اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں