خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 501
501 خطبات مسرور جلد نهم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 اکتوبر 2011ء اور بہیمانہ حملے کر رہے ہیں اور پاکستان کے نام نہاد علماء اس میں سب سے پیش پیش ہیں، آگے بڑھے ہوئے ہیں۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تذکرۃ الشہادتین میں یہ لکھا ہے کہ امیر کا بل بھی مولویوں سے خوفزدہ ہے اور مولویوں کے کہنے پر صاحبزادہ صاحب کی شہادت بھی ہوئی۔شاید اُس کے دل میں اُن کا کوئی احترام تھا۔باوجودیکہ وہ وہاں کا بادشاہ تھا مگر اس امیر کی ڈور اُن مولویوں کے ہاتھ میں تھی۔(ماخوذ از تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 52) بعینہ اسی طرح آج پاکستان میں حکومت اور اس کی وجہ سے عوام بھی، کیونکہ عوام تو خوفزدہ رہتے ہیں، ان ظالم علماء کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔یا یہ حکومتی کارندے اکثر وہ لوگ ہیں جو ان مولویوں کی انسانیت سوز باتوں کو ماننے پر مجبور ہیں۔بہر حال آج پاکستان میں بسنے والا احمد ی صرف اپنی جان ومال کے نقصان کی وجہ سے ہی پریشان نہیں ہے یا فکر مند نہیں ہے۔بہت سے احمدی لکھتے ہیں کہ اب تو لگتا ہے کہ یہ ہماری زندگیوں کا حصہ ہے۔ہم تو اپنی جانیں ہتھیلی پر لئے پھر رہے ہیں۔اب تو یہ معمول بن گیا ہے۔یہ خوف تو کوئی اتنازیادہ نہیں رہا لیکن ہمیں زیادہ بے چین کرنے والی چیز یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق انتہائی نازیبا الفاظ میں اشتہار چھاپ کر تقسیم کرتے ہیں۔بڑے بڑے پوسٹر لگاتے ہیں اور سرکاری عمارتوں پر لگا دیتے ہیں بلکہ نازیبا تو ایک عام لفظ ہے، انتہائی گھٹیا اور لچر الفاظ استعمال کرتے ہیں جن کو ایک شریف آدمی پڑھ اور ئن بھی نہیں سکتا۔یہ لکھنے والے لکھتے ہیں کہ یہ الفاظ جو ہیں، یہ اشتہارات جو شائع ہوتے ہیں یہ ہمارے نقصانوں سے زیادہ ہمارے دلوں کو زخمی کرنے والے ہیں۔ہمیں بے چین کر رہے ہیں۔یہ گندی زبان لاؤڈ سپیکروں پر سُن کر اور گندہ لٹریچر دیکھ کر ہمارا دل خون کے آنسو روتا ہے اور جب حکومتی کارندوں اور اربابِ حکومت کو کہو تو یا ئن کر دوسرے کان سے اُڑا دیتے ہیں یا پھر کہہ دیتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے ، مجبوریاں ہیں۔بہر حال صبر اور حوصلے کی بڑی عظیم اور نئی داستانیں ہیں جو پاکستان میں رہنے والے احمدی رقم کر رہے ہیں۔پس ان صبر کے جذبات کو نتیجہ خیز بنانے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے آگے جھک جائیں۔دعاؤں سے اپنی سجدہ گاہیں تر کر لیں۔اللہ تعالیٰ کے عرش کے پائے ہلانے کے لئے وہ حالت پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس نے صحابہ رضوان اللہ علیہم کے لئے فتوحات کے دروازے کھول دیئے تھے۔آج دعائیں ہی ہیں جو ہمارے دلوں کو ان لوگوں کے چر کے لگانے اور حملوں سے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔یہ دعائیں ہی ہیں جو ہمیں ان لوگوں سے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔مخالفین کی اسلام کے نام پر ، حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ، احمدیت دشمنی میں جس قدر تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اُسی قدر تیزی سے ہمیں دعاؤں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہونی چاہئے تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جلد جذب کرنے والے بنیں۔پاکستان میں رہنے والے احمدیوں کو میں خاص طور پر توجہ دلانا چاہتاہوں کہ دعاؤں کی طرف، صرف عام دعائیں نہیں بلکہ خاص دعاؤں کی طرف پہلے سے بڑھ کر توجہ دیں بلکہ ان دعاؤں کے ساتھ ہفتے میں ایک نفلی روزہ