خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 487
خطبات مسرور جلد نهم 487 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2011ء حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسجد کو صبح شام جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اُس کے لئے جنت میں اپنی مہمان نوازی کا سامان تیار کرتا ہے۔(بخاری کتاب الاذان باب فضل من غدا الى المسجد ومن راح حدیث:662) پس اللہ تعالیٰ کی خاطر مسجد میں آنے والوں کے لئے جنت میں مہمان نوازی کے سامان تیار ہو رہے ہیں۔روزانہ پانچ مرتبہ یہ مہمان نوازی کے سامان تیار ہو رہے ہیں۔اور پھر جو چالیس، پچاس، ساٹھ سال زندہ رہتا ہے ، یا اس سے بھی زیادہ لمبی عمر زندہ رہتا ہے اور نمازیں ادا کرتا ہے۔تو مہمان کے لئے اللہ تعالیٰ نے کس قدر سامان تیار کئے ہوں گے۔یہ تو ایک انسان کے تصور سے بھی باہر ہے۔دنیا میں ہمارا کوئی پیارا مہمان آئے تو ہم مہمان کے آنے کا پتا چلتے ہی انتظامات شروع کر دیتے ہیں اور اس مہمان سے جتنا جتنا پیار اور تعلق ہو اُس کے مطابق اپنی مہمان نوازی کی انتہا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہمارے پاس تو وسائل بھی محدود ہوتے ہیں لیکن خدا جس کے وسائل کی بھی کوئی حد نہیں، جس کی رحمت کی بھی کوئی حد نہیں، جس کی مہمان نوازی کی بھی کوئی حد نہیں ہے وہ کس طرح اپنے عابد بندے کے لئے مہمان نوازی کے سامان کرتا ہو گا۔یہ چیز انسانی سوچ سے بھی بالا ہے۔پس ہمیں ایسی مہمان نوازی کے مواقع تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔مجھے امید ہے کہ یہاں رہنے والا ہر احمد ی اس مسجد کا انشاء اللہ اس سوچ کے ساتھ حق ادا کرنے والا ہو گا۔تاکہ حق کی یہ ادا ئیگی جہاں اللہ تعالیٰ سے اس کے تعلق کو مضبوط کرنے والی اور اُس کا پیارا بنانے والی ہو وہاں اپنوں اور غیروں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دلانے والی ہو۔گویا ایک مؤمن اگلے جہان کی جنت کے لئے اور اُس کی مہمان نوازی کے حصول کے ساتھ اس دنیا کو بھی جنت بنانے کی کوشش کرتا ہے یا کر رہا ہوتا ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا اس کے لئے ظاہری شکر گزاری بھی ہونی چاہئے، یہ ظاہری شکر گزاری اُس حسین معاشرے کے قیام کے لئے بھی ایک کوشش ہے جو اس دنیا کو بھی جنت نظیر بنانے والا ہو۔گزشتہ دو دنوں میں ریڈیو، ٹی وی اور اخباری نمائندوں نے مختلف وقتوں میں میرے انٹر ویو لئے ہیں، اُس میں ہر ایک متفرق سوالوں کے علاوہ اس بات میں بھی دلچسپی رکھتا تھا کہ مسجد کا مقصد کیا ہو گا اور اس میں بھی کہ مسجد بنائی ہے تو یہاں کیا ہو گا؟ آپ کے احساس و جذبات کیا ہیں؟ تو میر ایہی جواب تھا کہ ماحول کو پر امن اور ایک دوسرے کے لئے محبت بھرے جذبات سے بھر کر اس دنیا کو جنت نظیر بنانا ایک خدا کی عبادت کے ساتھ ساتھ اسلام کی خوبصورت تعلیم کا اپنی زندگیوں میں اظہار کر کے دنیا کو امن، صلح اور آشتی کا گہوارہ بنانا یہ اس کا مقصد ہے۔پس اس مسجد کی تعمیر کے ساتھ اس مسجد کے ماحول میں، اس شہر میں، اس ملک میں محبت اور پیار کو فروغ دینے کا کام یہاں کے احمدیوں کی پہلے سے بڑھ کر ذمہ داری بن گئی ہے۔یہ میڈیا کا آنا، انٹر ویولینا، اخبار ، ریڈیو، ٹی وی وغیرہ کا مثبت انداز میں اس مسجد کی تعمیر کا ذکر کرنا پھر ہمیں جیسا کہ میں نے کہا مزید شکر گزاری کی طرف مائل کرتا ہے اور اس طرف ہی لے جانا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی قربانیوں کا بدلہ اس صورت میں بھی عطا فرمایا ہے کہ میڈیا کو توجہ پیدا ہوئی اور عموماً اچھے رنگ میں جماعت کا اور مسجد کا ذکر ہوا ہے۔