خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 477
477 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم اس مرتبہ میں لجنہ سے اس لحاظ سے بھی متاثر ہوا ہوں کہ بچیاں بھی اور خواتین بھی بڑی خاموشی سے اور توجہ سے میری لجنہ میں جو تقریر تھی اُسے سنتی رہی ہیں۔عموماً میں عورتوں کے مزاج کی وجہ سے کوشش کرتا ہوں کہ چالیس پینتالیس منٹ میں اپنی بات ختم کر دوں اس سے زیادہ نہ لوں لیکن اس مرتبہ لجنہ کے اجتماع پر جب میں نے وقت دیکھا تو تقریباً سوا گھنٹہ گزر چکا تھا۔لیکن چھوٹی بچیاں بھی، جو ان بچیاں بھی، بڑی عمر کی عورتیں بھی پورا وقت بڑے انہماک سے میری باتوں کو سنتی رہی ہیں۔خدا کرے کہ میری باتیں اُن پر اثر ڈالنے والی بھی ہوں۔یعنی مستقل اثر ہو اور لجنہ کی تنظیم اس بات پر خوش نہ ہو جائے کہ ہمارا اجتماع بڑا اچھا ہوا اور ہماری تعریف ہو گئی، بلکہ مستقل اور مسلسل عمل کے لئے ان باتوں کو اپنے لائحہ عمل میں شامل کریں۔عہد یدار اپنے بھی جائزے لیں اور ممبروں کے بھی جائزے لیں تبھی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مدد گار بن سکتے ہیں۔تبھی ہم اُس زمانے میں شمار ہونے والے کہلا سکیں گے جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اُمت ایک مبارک اُمت ہے یہ نہیں معلوم ہو سکے گا کہ اِس کا اول زمانہ بہتر ہے یا آخری۔(ترمذی کتاب الامثال باب 6/81 حدیث 2869) ( یعنی دونوں زمانے اپنی الگ الگ شان رکھنے والے ہیں)۔یہ آخری زمانہ کونسا ہے جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کو پہلے زمانے کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جوڑا ہے۔یہ زمانہ جو آخری زمانہ ہے یہ آخرین کا زمانہ ہے جس کا قرآن کریم میں ذکر آتا ہے۔جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق اور غلام صادق نے مبعوث ہو کر آخرین کو اولین سے ملانا تھا۔دین کو ثریا سے واپس لانا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بادشاہت کو دنیا پر قائم کرنا تھا۔اس کا نعوذ باللہ یہ مطلب نہیں ہے کہ مقام کے لحاظ سے آنے والا جو نبی ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر ہو گا اور یہ پہچان مشکل ہو جائے گی کہ یہ بہتر ہے یا وہ بہتر ہے۔یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔ایک آقا ہے اور دوسرا غلام ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح میں نے اپنے زمانے میں ایک اندھیرے زمانے کے بعد ہدایت کی روشنی دنیا میں پھیلائی، جس کا مسلم کی حدیث میں ایک جگہ یوں ذکر ملتا ہے ، بہت ساری حدیثیں ہیں اس بارے میں، ایک حدیث یہ ہے کہ حضرت عمران بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہتر لوگ میرے زمانے کے ہیں پھر وہ جو اُن کے بعد آئیں گے۔عمران کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ آپ نے دو دفعہ یا تین دفعہ فرمایا۔بہر حال آپ نے اس کے بعد فرمایا۔ان لوگوں کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو بن بلائے گواہی دیں گے ، خیانت کے مر تکب ہوں گے ، دینداری چھوڑ دیں گے ، نذریں مان کر پوری نہیں کریں گے۔عہد کے پابند نہیں رہیں گے اور عیش و آرام کی وجہ سے موٹا پا اُن پر چڑھ جائے گا۔(مسلم کتاب فضائل الصحابة باب فضل الصحابة ثم الذين يلونهم۔۔۔۔۔حديث 6475) پس ایسے لوگوں کے بعد پھر جیسا کہ دوسری حدیثوں سے بھی ثابت ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم