خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 476 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 476

476 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم پس ذیلی تنظیمیں یادر کھیں کہ اگر حقیقت میں اجتماع میں شامل ہونے والوں اور ایم۔ٹی۔اے کے ذریعے سے سننے والوں پر دنیا میں کہیں بھی کوئی اثر ہوا ہے تو یہ لوہا گرم ہے اس کو اُس مزاج کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں جس مزاج کو پیدا کرنے کے لئے اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو بھیجا ہے۔ایم۔ٹی۔اے پر سننے والوں کی میں نے بات کی ہے تو ان کی طرف سے بھی مجھے اظہار جذبات کے خطوط مل رہے ہیں بلکہ بعض بچوں کے والدین کے تاثرات بھی مل رہے ہیں کہ ہمارے بچوں نے ، اطفال نے آپ کا خطاب سنا تو اُن دس گیاہ سال کے بچوں کے چہروں پر شرمندگی کے آثار تھے۔بلکہ ایک بچے کی ماں نے مجھے بتایا کہ میر ابچہ جب خطاب سُن رہا تھا تو اُس نے منہ کے آگے cushion رکھ لیا کہ میں بعض وہ باتیں کرتا ہوں جن کے بارے میں کہا جارہا ہے۔میرے متعلق کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ٹی۔وی پر مجھے دیکھ دیکھ کر یہ باتیں کر رہے ہیں ، خطاب کر رہے ہیں تو میں نے منہ چھپا لیا کہ نظر نہ آؤں۔پس یہ سعید فطرت ہے، یہ وہ روح ہے جو اللہ تعالیٰ نے آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے بچوں میں بھی پیدا کی ہوئی ہے کہ نصیحتوں پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے بلکہ شرمندہ ہو کر اپنی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں ، بعضوں نے اپنے موبائل فون بند کر دیئے ہیں۔سکول میں بیٹھ کر بجائے پڑھائی پر توجہ دینے کے بعض بچے اس سوچ میں رہتے تھے کہ ابھی بریک ہوئی یا ابھی چھٹی ہو گی تو پھر اپنے موبائل پر کوئی گیم کھیلیں گے یا اور اس قسم کی فضولیات میں پڑ جائیں گے جو فونوں پر آجکل مہیا ہوتی ہیں۔اب جب میری باتیں سنی ہیں تو انہوں نے کہا یہ سب فضولیات ہیں، ہم اب اس کو استعمال نہیں کریں گے ، ان کھیلوں کو نہیں کھیلیں گے۔یہ کھیلیں ایسی ہیں جو صحت نہیں بناتیں، جو دماغی ورزش بھی نہیں ہے بلکہ ایک نشہ چڑھا کر مستقل انہی چیزوں میں مصروف رکھتی ہیں، ایک پاگل پن یا انگلش میں جسے craze کہتے ہیں) وہ ہو جاتا ہے۔لیکن ہم صرف اس بات پر خوش نہیں ہو سکتے۔جو ہوشمند اور بڑے ہیں اُن کو تو خود اپنی حالتوں کے جائزے لینے کی ضرورت ہے اور مستقل مزاجی سے ان جائزوں کی ضرورت ہے۔ان جائزوں کو لیتے چلے جانا ہے اور اسی طرح والدین کو مستقل اپنے بچوں کو یاد دہانی کروانے کی ضرورت ہے کہ جب ایک اچھی عادت تم نے اپنے اندر پیدا کر لی ہے تو پھر اُسے مستقل اپنی زندگی کا حصہ بناؤ۔ماحول سے متاثر نہ ہو جاؤ۔پس ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہمارے لئے عارضی خوشیاں کوئی خوشیاں نہیں ہیں بلکہ جب تک ہماری خوشیاں، ہماری نیکیاں، ہمارے اندر پاک تبدیلیاں، ہمارے اندر مستقل رہنے کا ذریعہ نہیں بنتیں ہم چین سے نہیں بیٹھ سکتے۔جبتک ہم مستقل اپنی حالتوں کے جائزے نہیں لیتے رہتے ، ہم عظیم انقلاب کا حصہ نہیں بن سکتے۔پس جیسا کہ میں نے اجتماع میں بھی کہا تھا کہ اچھے معیار حاصل کر لینا پہلے سے زیادہ فکر کا باعث بنتا ہے، خود ہر فرد جماعت پر بھی ذیلی تنظیموں پر بھی اور نظام جماعت پر بھی پہلے سے زیادہ ذمہ داریاں ڈالتا ہے۔