خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 474 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 474

خطبات مسرور جلد نهم 474 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 ستمبر 2011ء فرمایا ”اگر ایک شخص بھی میرے ساتھ نہ ہو اور کوئی بھی مدد نہ دے۔تب بھی میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ سلسلہ کامیاب ہو گا“۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 472-473۔مطبوعہ ربوہ) دیکھیں کہ جو واقعات ہم نے سنے ان میں کس طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں خود یہ بات پیدا کر رہا ہے۔ایک شخص کو بچپن سے اللہ تعالیٰ دل میں ڈال رہا ہے کہ تم امام مہدی کے سپاہی ہو اور سالوں بعد بڑے ہو کر جبکہ نوجوانی بھی گزر رہی ہے تب جا کے اُس کو پتہ لگتا ہے کہ امام مہدی کا ظہور ہو چکا ہے۔پس اس طرح اللہ تعالیٰ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مدد گار پیدا فرما رہا ہے۔یہی مطلب ہے اس کا کہ جب کوئی بھی مدد نہیں کرے گا تو تب بھی اللہ تعالی مدد فرمائے گا اور یہ سلسلہ قائم ہو گا۔پس ہمیں اپنی حالتوں پر غور کرنا چاہئے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : مخالفت کی میں پروا نہیں کرتا۔میں اس کو بھی اپنے سلسلہ کی ترقی کے لیے لازمی سمجھتا ہوں۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ خدا تعالیٰ کا کوئی مامور اور خلیفہ دنیا میں آیا ہو اور لوگوں نے چپ چاپ اسے قبول کر لیا ہو۔دنیا کی تو عجیب حالت ہے۔انسان کیسا ہی صدیق فطرت رکھتا ہو مگر دوسرے اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے وہ تو اعتراض کرتے ہی رہتے ہیں“۔فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہمارے سلسلہ کی ترقی فوق العادت ہو رہی ہے۔بعض اوقات چار چار پانچ پانچ سو کی فہرستیں آتی ہیں اور دس دس پندرہ پندرہ تو روزانہ درخواستیں بیعت کی آتی رہتی ہیں اور وہ لوگ علیحدہ ہیں جو خود یہاں آکر داخل سلسلہ ہوتے ہیں“۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 473 - مطبوعہ ربوہ) اب یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتیں ہیں اور جیسا کہ میں نے واقعات میں بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا میں اب یہ رو چلائی ہے کہ آپ کی بیعت میں آنے والوں کی تعداد روزانہ بعض اوقات پانچ پانچ سو سے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے، ہزاروں میں بھی چلی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ تو اپنا کام کئے چلے جارہا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق دے کہ اپنی بیعت کا اور اس سلسلے میں شامل ہونے کا حق ادا کرنے والے ہوں۔آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک نہایت عارفانہ دعا پیش کرتا ہوں جس سے آپ کے دلی درد کی کیفیت کا اظہار ہوتا ہے۔آپ کی مجلس میں کثرت زلازل اور تباہیوں کا ذکر تھا، اور آج کل بھی آپ دیکھیں اسی طرح تباہیاں آرہی ہیں تو آپ نے فرمایا: ”ہم تو یہ دعا کرتے ہیں کہ خدا جماعت کو محفوظ رکھے اور دنیا پر یہ ظاہر ہو جائے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) بر حق رسول تھے اور خدا کی ہستی پر لوگوں کو ایمان پیدا ہو جائے۔خواہ کیسے ہی زلزلے پڑیں۔پر خدا کا چہرہ لوگوں کو ایک دفعہ نظر آجائے اور اس ہستی پر ایمان قائم ہو جائے“۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 261۔مطبوعہ ربوہ) آجکل کی بھی جیسا کہ میں نے کہا کثرت سے جو آفات اور تباہیاں ہیں ، خدا کرے کہ ان کو دیکھ کر دنیا اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کو پہچان لے اور مسلمان بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو شناخت کر کے اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو دوبارہ قائم کرنے والے بن جائیں اور توحید کے قیام کا باعث بن جائیں۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 7 اکتوبر تا 13 اکتوبر 2011 ء جلد 18 شمارہ 40 صفحہ 5 تا9)