خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 473
خطبات مسرور جلد نهم 473 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 ستمبر 2011ء آگ تو ویسے ہی ہمارے خلاف بڑھ رہی ہے۔اگر آپس میں بھی ہم اس قسم کی حرکتیں کریں تو پھر اس جماعت میں رہنے کا کیا فائدہ)۔پھر آپ نے فرمایا: ”پھر میں دیکھتا ہوں کہ بہت سے ہیں جن میں اپنے بھائیوں کے لیے کچھ بھی ہمدردی نہیں۔اگر ایک بھائی بھو کامرتا ہو تو دوسرا توجہ نہیں کرتا اور اس کی خبر گیری کے لیے تیار نہیں ہو تا۔یا اگر وہ کسی اور قسم کی مشکلات میں ہے تو اتنا نہیں کرتے کہ اس کے لیے اپنے مال کا کوئی حصہ خرچ کریں۔حدیث شریف میں ہمسایہ کی خبر گیری اور اس کے ساتھ ہمدردی کا حکم آیا ہے بلکہ یہاں تک بھی ہے کہ اگر تم گوشت پکاؤ تو شور بازیادہ کر لو تا کہ اسے بھی دے سکو۔اب کیا ہوتا ہے اپنا ہی پیٹ پالتے ہیں، لیکن اس کی کچھ پروا نہیں۔یہ مت سمجھو کہ ہمسایہ سے اتناہی مطلب ہے جو گھر کے پاس رہتا ہو۔بلکہ جو تمہارے بھائی ہیں وہ بھی ہمسایہ ہی ہیں خواہ وہ سو کوس کے فاصلے پر بھی ہوں“۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 214-215۔مطبوعہ ربوہ) پس جب ہم اپنی حالتوں کی اصلاح کرلیں گے تو یقینا ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کا اور آپ کی جماعت میں شامل ہونے کا صحیح حق ادا کرنے والے ہوں گے۔اللہ کرے کہ نومبائعین بھی اپنی حالتوں کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرتے چلے جائیں اور پرانے احمدی اور وہ شست احمدی جو اپنے معیاروں کی بلندی کے حصول کو بھول گئے ہیں وہ بھی آپ کی بیعت کا حق ادا کرنے والے بنیں۔اور ہم بھی آپ کی بیعت کے مقصد کو پورا کرنے والے بنیں۔اپنی بعثت کا مقصد اور مخالفین کی مخالفت اور سلسلے کی ترقی کے بارے میں آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ”میرے ان مقاصد کو دیکھ کر یہ لوگ میری مخالفت کیوں کرتے ہیں“۔یعنی یہ مخالفین جو خاص طور پر مسلمانوں میں سے ہیں۔یہ دو مقصد ہیں تقویٰ قائم کرنا اور توحید کو قائم کرنا، اس کو دیکھ کر بھی یہ لوگ میری مخالفت کرتے ہیں۔انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ جو کام نفاق طبعی اور دنیا کی گندی زندگی کے ساتھ ہوں گے وہ خود ہی اس زہر سے ہلاک ہو جائیں گے “۔یہ مخالفین کو یاد رکھنا چاہئے کہ جو میں کام کر رہا ہوں اگر نفاق ہے میری طبیعت میں اور اس دنیا کی خواہشات اور گندی زندگی کے لئے ہیں تو اس زہر سے انسان خود ہی ہلاک ہو جاتا ہے۔” کیا کا ذب کبھی کامیاب ہو سکتا ہے ؟“۔فرمایا: ” إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ مُسْرِفُ كَذَّابٌ (المومن: 29)“ ( کہ یقینا اللہ اسے ہدایت نہیں دیا کر تاجو حد سے بڑھا ہوا اور سخت جھوٹا ہو) کذاب کی ہلاکت کے واسطے اس کا کذب ہی کافی ہے۔لیکن جو کام اللہ تعالیٰ کے جلال اور اس کے رسول کی برکات کے اظہار اور ثبوت کے لئے ہوں اور خود اللہ تعالیٰ کے اپنے ہی ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہو پھر اس کی حفاظت تو خود فرشتے کرتے ہیں۔کون ہے جو اس کو تلف کر سکے ؟ یاد رکھو میر اسلسلہ اگر نری دکانداری ہے تو اس کا نام و نشان مٹ جائے گا۔لیکن اگر خدا کی طرف سے ہے اور یقینا اسی کی طرف سے ہے تو خواہ ساری دنیا اس کی مخالفت کرے یہ بڑھے گا اور پھیلے گا اور فرشتے اس کی حفاظت کریں گے“۔