خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 461
461 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2011 ء خطبات مسرور جلد نهم مسجد گھر سے کچھ فاصلے پر ہونے کے باوجود نماز جمعہ باقاعدگی کے ساتھ مسجد میں جاکر ادا کیا کرتے تھے۔نظامِ جماعت اور خلافت کے ساتھ اخلاص و وفا کا تعلق تھا۔طبیعت میں سادگی تھی۔بیوی بچوں کے ساتھ بہت محبت اور شفقت کا سلوک کیا کرتے تھے۔ہمدردی خلق اور غریب پروری نمایاں خُلق تھا۔ان کے لواحقین میں اہلیہ آسیہ نیم صاحبہ کے علاوہ چار بیٹیاں سندس ناز شادی شدہ ہیں غلام عباس صاحب کی اہلیہ۔زارا نور صاحبہ یہ بھی شادی شدہ ہیں۔سارہ کو ثر صاحبہ یہ بھی شادی شدہ ہیں۔شمائلہ کنول بعمر پندرہ سال، یہ نویں کلاس میں پڑھ رہی ہیں اور بیٹا عزیزم سافر رمضان گیارہ سال کا ہے، چوتھی جماعت میں پڑھ رہا ہے۔ایک بیٹا ان کا پچھلے سال بیماری کی وجہ سے بائیس سال کی عمر میں وفات بھی پا گیا تھا۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔نماز جمعہ کے بعد جیسا کہ میں نے کہا ان کی نماز جنازہ ادا ہو گی۔(خطبہ ثانیہ کے دوران حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:) یہ جو شہید ہوئے ہیں ان کے دو دن بعد فیصل آباد میں ہی ہمارے جماعت کے سیکر ٹری امور عامہ تھے اُن کے اوپر فائرنگ کی گئی اور چار گولیاں اُن کو لگی ہیں۔ہسپتال میں داخل ہیں۔کل تک کریٹیکل (Critical) حالت تھی۔اللہ کے فضل سے اب کچھ بہتر ہیں۔اُن کے لئے بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ اُن کو شفائے کاملہ و عاجلہ سے نوازے۔انہیں پیٹ میں اور گردن پر اور بازو پر گولیاں لگی تھیں۔ان کی انتڑیوں کو کافی زیادہ نقصان پہنچا ہے۔مرمت کی گئی ہیں اور کچھ کاٹی ہیں۔اسی طرح کل ہی لاہور میں ایک احمدی کو کار روک کے فائرنگ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ایک گولی میں (Miss) ہوئی دوسری چل نہیں سکی۔بہر حال مخالفت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔پاکستان کے احمدیوں کے لئے خاص طور پر بہت دعا کریں۔اللہ تعالیٰ اُن سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔الفضل انٹر نیشنل مؤرخہ 30 ستمبر تا 6 اکتوبر 2011ء جلد 18 شمارہ 39 صفحہ 5 تا9)