خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 429 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 429

429 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اگست 2011 ء خطبات مسرور جلد نهم حقیقی ہدایت پانے والے وہ ہیں جن کی زبان ذکر الہی اور دعا سے تر ر ہے۔پس ان دنوں میں جبکہ ہمیں رمضان کی وجہ سے ذکر الہی کی طرف توجہ پیدا ہوئی ہے، دعاؤں کی طرف توجہ پیدا ہوئی ہے اسے مستقل اپنانے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ ہدایت کے راستوں پر ہمیشہ گامزن رہیں اور اس کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی ہم کوشش کرتے چلے جائیں۔پھر آپ ہمیں صراطِ مستقیم کے معنے سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ”صراط لغت عرب میں ایسی راہ کو کہتے ہیں جو سیدھی ہو یعنی تمام اجزاء اس کے وضع استقامت پر واقع ہوں اور ایک دوسرے کی نسبت عین محاذات پر ہوں“۔(الحکم 10 فروری 1905ء صفحہ 4 جلد 9 شمارہ 5 کالم نمبر 2) ( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 217) یعنی کوئی کمی نہ ہو، کوئی ٹیڑھا پن نہ ہو ، کوئی پریشان کرنے والی چیز نہ ہو ، واضح اور سیدھا اور ایک مقصد کی طرف لے جانے والا راستہ ہو، یہ نہیں کہ ایک جگہ پہنچ کر انسان سوچے اور confuse ہو جائے کہ میں نے دائیں جانا ہے کہ بائیں جانا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کو پانے کا جو مقصد ہے، اُس طرف لے جانے والا راستہ ہو ، اُسی راستے کو صراط کہتے ہیں۔خطرے کی نشاندہی کرے، جہاں مڑنا ہے وہاں مڑنے کی طرف رہنمائی کرے۔پھر آپ علیہ السلام اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة: 6) کے حقیقی معنی بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ”صوفی لوگ اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے معنی بھی فنا ہی کے کرتے ہیں۔یعنی روح، جوش اور ارادے سب کے سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ہو جائیں اور اپنے جذبات اور نفسانی خواہشیں بالکل مر جائیں“۔فرمایا ” بعض انسان جو اللہ تعالیٰ کی خواہش اور ارادے کو اپنے ارادے اور جوشوں پر مقدم نہیں کرتے وہ اکثر دفعہ دنیا ہی کے جوشوں اور ارادوں کی ناکامیوں میں اس دنیا سے اُٹھ جاتے ہیں۔فرمایا ”نماز جو دعا ہے اور جس میں اللہ کو جو خدائے تعالیٰ کا اسم اعظم ہے مقدم رکھا ہے ، ایسا ہی انسان کا اسم اعظم استقامت ہے۔اسم اعظم سے مراد یہ ہے کہ جس ذریعہ سے انسانیت کے کمالات حاصل ہوں“۔(حضرت اقدس کی ایک تقریر اور مسئلہ وحدت الوجود پر ایک خط صفحہ 18و20، 21 بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 218 ملفوظات جلد 3 صفحہ 37735) یعنی مستقل مزاجی سے دعاؤں کی طرف لگے رہو گے اللہ کی طرف جاؤ گے تو تبھی انسانیت کے کمالات حاصل ہو سکتے ہیں یا اُن کی طرف قدم بڑھ سکتا ہے۔پس جب اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحہ: 6) کی دعا انسان کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بھی سامنے رکھنا ہو گا۔اوامر اور نواہی کو بھی دیکھنا ہو گا کہ کونسی باتیں کرنے کی ہیں اور کونسی نہیں کرنے کی، قرآن کریم کے حکموں پر نظر رکھنی ہو گی۔اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے ہوں گے کیونکہ حقوق العباد بھی خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والے ہوتے ہیں۔جب یہ ہو گا تب ہی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی جو دعا ہے وہ دل کی آواز بنے گی تبھی استقامت کا مقام حاصل ہو گا۔تبھی انسانیت کے کمال حاصل کرنے کی طرف حقیقی توجہ اور کوشش ہو گی اور تبھی انسان پھر خدا تعالیٰ کی آغوش میں آکر قبولیت دعا کے نظارے بھی دیکھے گا۔انسان جب استقامت دکھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتا چلا جاتا ہے۔ہدایت پر رہنے کے لئے صرف خدا کو پکارتا ہے تو پھر ہی صراطِ مستقیم قائم رہتی ہے۔