خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 428 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 428

خطبات مسرور جلد نهم 428 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اگست 2011 ء ہو گئی تھی اور اس کے مختلف پہلو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائے وہ آپ کے سامنے رکھے تھے۔آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر کی روشنی میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة: 6) کا مطلب، اس کے بعض گہرے مطالب، اس کے معنی، اس کی روح کیا ہے ؟ وہ پیش کروں گا جن سے پتہ لگتا ہے کہ اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة : 6) کی جو دعا ہے وہ کس قدر وسیع ہے اور ہمارے ہر معاملے کا کس طرح اس دعا نے احاطہ کیا ہوا ہے ؟ پہلے جو اقتباس میں پیش کروں گا اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہدایت پانے کے قابل کون لوگ ہوتے ہیں ؟ وہ کون لوگ ہیں جنہیں ہدایت پانے کے صحیح راستوں کا پتہ چلتا ہے اور ان راستوں پر چلنے کے لئے وہ کوشش کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔( یہ بھی کرامات الصادقین کا ہی حوالہ ہے جس کا ترجمہ پڑھتا ہوں) ”اور اس سورۃ میں ( یعنی سورۃ فاتحہ میں) اللہ تعالیٰ اپنے مسلمان بندوں کو تعلیم دیتا ہے۔پس گویا وہ فرماتا ہے۔اے میرے بندو! تم نے یہود و نصاری کو دیکھ لیا ہے۔تم اُن جیسے اعمال کرنے سے اجتناب کرو اور دعاء اور استقامت کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور یہود کی مانند اللہ کی نعمتوں کو مت بھلاؤ ورنہ اُس کا غضب تم پر نازل ہو گا۔اور تم سچے علوم اور دعا کو مت چھوڑو اور نصاری کی طرح طلب ہدایت میں سُست نہ ہو جاؤ ورنہ تم گمراہ ہو جاؤ گے اور ہدایت کے طلب کرنے کی ترغیب دی اس (بات کی) طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ہدایت پر ثابت قدمی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا اور گریہ وزاری میں دوام کے بغیر ممکن نہیں“۔( ہدایت پر ثابت قدمی جب تک مستقل مزاجی سے دعا نہیں کرو گے ، گریہ وزاری نہیں کرو گے یہ ممکن نہیں ہے) فرمایا ”مزید بر آں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ہدایت ایک ایسی چیز ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی (ملتی) ہے اور جب تک کہ خدا تعالیٰ خود بندہ کی رہنمائی نہ کرے اور اسے ہدایت یافتہ لوگوں میں داخل نہ کر دے وہ ہر گز ہدایت نہیں پاسکتا۔پھر اس (امر کی) طرف بھی اشارہ ہے کہ ہدایت کی کوئی انتہا نہیں اور انسان دعاؤں کی سیڑھی کے ذریعہ ہی اُس تک پہنچ سکتے ہیں اور جس شخص نے دعا کو چھوڑ دیا اس نے اپنی سیڑھی کھو دی۔یقینا ہدایت پانے کے قابل وہی ہے جس کی زبان ذکر الہی اور دعاء سے تر رہے اور وہ اس پر دوام اختیار کرنے والوں میں سے ہو“۔( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 214) کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 124) پس ایک مومن کے لئے جو ہدایت کی تلاش میں ہے یہ ہدایات ہیں کہ دعا اور استقامت کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو۔یہ کبھی نہ چھوٹے۔طلب ہدایت میں سُست نہ ہو ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے۔یاد رکھو! ہدایت پر ثابت قدمی، مستقل مزاجی سے دعا اور گریہ وزاری کے بغیر ممکن نہیں۔اگر دعا نہیں کرو گے تو ہدایت کے راستے بھی بند ہو جائیں گے کیونکہ ہدایت بندہ اپنے زور سے حاصل نہیں کر سکتا بلکہ یہ خدا کی طرف سے ملتی ہے۔پھر فرمایا یہ بات ہمیشہ سامنے رکھو کہ ہدایت کی کوئی انتہا نہیں ہے کہ ہم نے ہدایت پالی اور جو حاصل کرنا تھاوہ کر لیا۔ایک مقام پر پہنچ کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں مکمل طور پر ہدایت یافتہ ہو گیا۔پس جب انتہا نہیں تو دعاؤں کی سیڑھی کی ہر وقت ضرورت ہے۔پس ایک مومن کو یہ اہم بات یاد رکھنی چاہئے کہ صرف وقتی عبادت ہدایت کا باعث نہیں بنتی بلکہ