خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 427 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 427

427 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اگست 2011 ء خطبات مسرور جلد نهم وہیں واپسی ہو گئی جہاں سے شروع ہوئے تھے۔نمازیں ہیں لیکن اُن میں وہ لذت اور ذوق نہیں۔پس اس ماحول میں جب دعاؤں کی طرف توجہ ہے تو اللہ تعالیٰ نے عبادت میں ذوق شوق، قوت اور ثبات قدمی کی جو دعا سکھائی ہے وہ دعا بھی کرنی چاہئے تا کہ عبودیت کا صحیح حق ادا ہو اور ہمیشہ ہو تا چلا جائے۔اگر ثبات قدمی نہیں تو عبودیت کا حق بھی ادا نہیں ہو سکتا۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : عبد بننے کی طرف توجہ اور ثبات قدمی کی طلب کے بعد پھر وہ کونسی اہم چیز ہے جو ایک مومن میں ہونی چاہئے۔اس بارہ میں میں نے جو اقتباس پچھلے خطبہ میں پڑھا تھا اُس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اہم چیز یہ ہے کہ ایک مومن کو یہ بھی پتہ ہونا چاہئے کہ وہ کس قسم کی قوت ہے اور وہ قوت کس طرح حاصل ہو گی، ثبات قدم کس پر ہو اور اس کا معیار کیا ہو ؟ اگر اس کا علم نہ ہو، اگر عبد بننے کے لئے ہدایت کے راستے کی نشاندہی نہ ہو تو پھر انسان اند ھیرے میں ہاتھ پیر مار تارہے گا، اُسے پتہ ہی نہیں ہو گا کہ وہ کسی قسم کی عبودیت کی تلاش میں ہے۔اور وہ کیا چیز ہے ؟ کونسی عبادتیں اُس نے کرنی ہیں؟ کیا چیزیں اُس نے مانگتی ہیں ؟ کن راستوں کی اُس نے تلاش کرنی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اس لئے ضروری ہے کہ علم اور ہدایت کی تلاش کے لئے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ کی دعا کی جائے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے۔تاکہ اللہ تعالیٰ انسان کی عبادت اور اُس کی کوشش میں برکت ڈالتے ہوئے ایک حقیقی عابد اور اللہ تعالیٰ کے راستوں کے متلاشی کو ہمیشہ ہدایت کے راستوں پر گامزن رکھے ، اس پر توفیق دیتا چلا جائے۔(ماخوذ از کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 146) (ماخوذاز تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 198-199) پس اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا اُس ثبات قدم اور قوت کے حصول اور اُس کا علم رکھنے کے لئے ہے جو مستقل مزاجی سے عبودیت کا حق ادا کرنے کے لئے ضروری ہے۔اس کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔آپ علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق ان تینوں دعاؤں کا خلاصہ گویا یہ بنے گا کہ جب تک انتہائی اخلاص، انتہائی کوشش اور ہدایت کو سمجھنے کی پوری صلاحیت حاصل نہ ہو جائے اُس وقت تک ایک حقیقی مومن کو ، سچا عابد بننے والے کو آرام سے نہیں بیٹھنا چاہئے اور یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ہم نجات یافتہ ہو گئے یا ہم نے اپنے مقصد کو پالیا، یا خدا تعالیٰ کے پیار کے سلوک کے ان اعلیٰ معیاروں کو حاصل کر لیا جو معیار ایک مومن کا مطمح نظر ہونے چاہئیں۔پس جب یہ سوچ ایک مومن کی ہو کہ ہم نے آرام سے نہیں بیٹھنا جب تک کہ ان راستوں پر نہیں چلتے تو پھر ایسے مومن کے قدم آگے بڑھتے ہیں، پھر مسجدوں میں دل لگتے ہیں، پھر نمازوں کی حفاظت کی فکر ہوتی ہے۔پھر رمضان کے روزوں کا حق ادا ہوتا ہے۔پھر رمضان کے بعد بھی عبادت میں ذوق کی اور شوق کی اور جس طرح پچھلی دفعہ میں نے پڑھا تھا کہ فرمایا ایک جلن ہونی چاہئے ، اُس جلن کو حاصل کرنے کی کوشش رہتی ہے۔(کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 120 - تغییر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 190-191) گزشتہ جمعہ میں جیسا کہ میں نے کہا ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحہ:5) کی وضاحت تو کچھ حد تک