خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 426
خطبات مسرور جلد نهم 426 34 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اگست 2011ء خطبه جمعه فرمودہ 26 اگست 2011ء بمطابق 26 ظہور 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن، (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: گذشتہ خطبہ میں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر کے حوالے سے سورۃ فاتحہ کی آیت اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحہ: 5) کی وضاحت کی تھی۔یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر بڑا احسان ہے، بہت عظیم احسان ہے کہ اُس نے ہمیں زمانے کے امام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی جن سے ہمیں قرآن کریم کے گہرے معانی اور تفسیر کا علم ہوا۔اُس کے بعد مجھے بہت سے خط آئے کہ ہمیں اس خطبے کے بعد إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحہ: 5) کا جو عرفان حاصل ہوا ہے اور نماز میں اس دعا پر غور کرتے ہوئے پڑھنے سے جو لذت آئی ہے اُس کا مزہ ہی کچھ اور تھا اور ہے۔بعض عربی بولنے والے عرب لوگوں نے لکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب ”کرامات الصادقین“ ہم نے پہلے بھی پڑھی ہوئی تھی لیکن خطبہ میں اس کے حوالے ٹن کر جو عرفان حاصل ہوا ہے اُس کے بعد لگتا تھا کہ یہ پہلے نہیں پڑھا گیا۔یقیناً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام ایسا ہے جس کی جگالی کرتے رہنا چاہئے۔بار بار جب یہ کلام سامنے آتا ہے تو نئے باب کھلتے ہیں، نئے اسرار ورموز کا پتہ چلتا ہے۔رمضان میں ویسے بھی دعاؤں کی طرف توجہ ہوتی ہے اس لئے دعا کا جو مضمون ہے وہ دل کو جا کر لگتا ہے۔دعاؤں کا یہ مضمون اور آپ کی تفسیر آج بھی جاری رہے گی۔گذشتہ خطبہ میں میں نے ایک اقتباس پڑھا تھا اب میں اُس کا خلاصہ بیان کروں گا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں خالص ہو کر اللہ کا عبد بننے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور اِيَّاكَ نَسْتَعِین میں عبودیت کے لئے قوت، ثابت قدمی، استقامت اور مستقل مزاجی کی دعا طلب کی گئی ہے۔کیونکہ قوت اور ثبات قدمی بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ملتی ہے۔اگر قوت اور ثبات قدمی نہ ہو تو عبودیت کا حق بھی ادا نہیں ہو سکتا۔عبادت کرنے کی اگر کوشش بھی ہو گی لیکن اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال نہیں ہو گی تو چند دن کی عبادت کے بعد پھر وہی عبادت میں بے قاعد گی، بے لذتی اور دل کے اچاٹ ہونے کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔کئی لوگ لکھتے ہیں کہ رمضان کے ماحول کی وجہ سے عبادتوں کی طرف توجہ پیدا ہوئی۔ایک ماحول بنا ہوا تھا، اُس کے دھارے میں ہم بھی بہتے جارہے تھے۔رمضان ختم ہوا تو پھر