خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 409
409 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 اگست 2011 ء خطبات مسرور جلد نهم کہ قرآنِ کریم میں پانسو کے قریب حکم ہیں اور اس نے تمہارے ہر یک عضو اور ہر یک قوت اور ہر یک وضع اور ہر یک حالت اور ہر ایک عمر اور ہر یک مرتبہ فہم اور مرتبہ فطرت اور مرتبہ سلوک اور مرتبہ انفراد اور اجتماع کے لحاظ سے ایک نورانی دعوت تمہاری کی ہے سو تم اس دعوت کو شکر کے ساتھ قبول کرو اور جس قدر کھانے تمہارے لئے تیار کئے گئے ہیں وہ سارے کھاؤ اور سب سے فائدہ حاصل کرو۔جو شخص ان سب حکموں میں سے ایک کو بھی ٹالتا ہے میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ عدالت کے دن مواخذہ کے لائق ہو گا۔اگر نجات چاہتے ہو تو دین العجائز اختیار کرو اور مسکینی سے قرآن کریم کا جوا اپنی گردنوں پر اٹھاؤ۔دین العجائز یہی ہے کہ جو احکامات ہیں اُن پر جس حد تک عمل ہو سکتا ہے کرو۔اُس کے آگے پھر ترقی کرو گے اور آگے پھر انگلی سلوک کی راہیں ہوں گی۔لیکن بنیاد یہی ہے کہ جو احکامات ہیں ان پر جس طرح فرض کئے گئے ہیں، عمل کرنے کی کوشش کی جائے۔فرمایا کہ: قرآن کریم کا جوا اپنی گردنوں پر اٹھاؤ کہ شریر ہلاک ہو گا اور سرکش جہنم میں گرایا جائے گا۔پر جو غریبی سے گردن جھکاتا ہے وہ موت سے بچ جائے گا۔دنیا کی خوشحالی کی شرطوں سے خدا تعالیٰ کی عبادت مت کرو کہ ایسے خیال کے لئے گڑھادر پیش ہے۔بلکہ تم اس لئے اس کی پرستش کرو کہ پرستش ایک حق خالق کا تم پر ہے۔چاہئے پرستش ہی تمہاری زندگی ہو جاوے اور تمہاری نیکیوں کی فقط یہی غرض ہو کہ وہ محبوب حقیقی اور محسن حقیقی راضی ہو جاوے کیونکہ جو اس سے کمتر خیال ہے وہ ٹھو کر کی جگہ ہے (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ 548) اللہ کرے کہ اس رمضان میں ہم اس نکتے کو بھی سمجھتے ہوئے محسن حقیقی کو راضی کرنے والے بن جائیں۔رمضان کے ساتھ دعاؤں کی قبولیت، احکامات کی پابندی، ایمان میں مضبوطی اور ہدایت کے حصول کو جوڑ کر اللہ تعالیٰ نے جو ہماری اس طرف توجہ مبذول کروائی ہے کہ میں تو اپنے بندوں کی بہتری اور اُن کو آفات، مصائب اور عذاب سے بچانے کیلئے ہر وقت تیار ہوں لیکن بندوں کو بھی اپنا حق بندگی ادا کرنا ہو گا۔اپنے آپ کو میرے خالص بندوں کی یا خاص بندوں کی طرف منسوب کر کے تمہیں بھی اُن باتوں کے بجالانے کی کوشش کرنی ہو گی، اُس تعلیم پر عمل کرنا ہو گا جو اللہ تعالیٰ کے خاص بندے خدا تعالیٰ کی مخلوق کے لئے لائے ہیں یالاتے ہیں۔تاکہ دنیا میں عباد الرحمن کی کثرت نظر آئے ، تاکہ ان عبادالرحمن کی وجہ سے دنیا پیار، محبت اور امن کا گہوارہ بنے۔تاکہ اس دنیا میں جنت کے نظارے نظر آئیں۔پس ہمارا ایمان میں مضبوطی کا دعویٰ، زمانے کے منادی کو سننا اور قبول کرنا، مخلوق خدا سے ہمدردی کا اہم فریضہ جو الہی جماعتوں کے سپرد کیا جاتا ہے، ہم سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے خالص بندوں میں شامل ہوں۔اُن بندوں میں شامل ہوں جن کی دعائیں خدا تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔اُن بندوں میں شامل ہوں جو اپنی حالتوں میں انقلاب پیدا کرتے ہیں۔اُن بندوں میں شامل ہوں جو مخلوق کی ہمدردی کی وجہ سے اُسے برائیوں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بھی بچانے کی کوشش کرنے والے ہوتے ہیں۔