خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 408
خطبات مسرور جلد نهم 408 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 اگست 2011 ء ہے۔اُسی کو اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنا پڑتا ہے۔یہی قانونِ قدرت ہے۔یہی اللہ تعالیٰ کا قانون ہے۔قانونِ شریعت ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے۔پھر دعاؤں کی قبولیت کے لئے اللہ تعالیٰ کے حکموں میں سے ایک اہم حکم یہ ہے جس کا پہلے بھی مختصر ذکر ہو چکا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : تم ایسے ہو جاؤ کہ نہ مخلوق کا حق تم پر باقی رہے نہ خدا کا۔یاد رکھو جو مخلوق کا حق دباتا ہے ، اس کی دعا قبول نہیں ہوتی کیونکہ وہ ظالم ہے”۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 195 مطبوعہ ربوہ) پھر آپ فرماتے ہیں: اللہ (تعالی) کارحم اس شخص پر جو امن کی حالت میں اسی طرح ڈرتا ہے جس طرح کسی مصیبت کے وارد ہونے پر ڈرتا ہے۔جو امن کے وقت خدا تعالیٰ کو نہیں بھلا تا خدا تعالیٰ اسے مصیبت کے وقت میں نہیں بھلا تا۔اور جو امن کے زمانہ کو عیش میں بسر کرتا ہے اور مصیبت کے وقت دعائیں کرنے لگتا ہے تو اُس کی دعائیں بھی قبول نہیں ہو تیں“۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 539 مطبوعہ ربوہ) پس فرمایا کہ امن کی حالت میں بھی تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ رکھنی چاہئے۔اُس سے دعائیں کرنی چاہئیں۔یہی دعاؤں کی قبولیت کا راز ہے۔اللہ تعالیٰ نے جو کہا ہے نا کہ میری بات مانو تو یہ اُن باتوں میں سے بات ہے کہ ہر حالت میں اُس سے دعائیں مانگتے رہو۔صرف رمضان کے مہینے میں نہیں، کسی مشکل کے وقت میں نہیں، کسی مصیبت کی گھڑی میں نہیں بلکہ ہر امن اور سلامتی کے وقت میں، عام حالات میں بھی اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنا ضروری ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں: دعاؤں کی قبولیت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرے۔اگر بدیوں سے نہیں بچ سکتا اور خد اتعالیٰ کی حدود کو توڑتا ہے تو دعاؤں میں کوئی اثر نہیں رہتا“۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 21 مطبوعہ ربوہ) پس جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فَلْيَسْتَجِيبُوائی۔پس وہ میری بات پر لبیک کہیں تو اُن تمام باتوں کی تلاش کرنی ہو گی جن کے کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے ، تاکہ اُن کو بجالا کر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو۔اور اُن تمام باتوں کو تلاش کر کے اُن باتوں سے بچنے کی کوشش کرنی ہو گی جن سے بچنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور قرآن کریم میں یہ احکام سینکڑوں کی تعداد میں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ”خدا تعالیٰ کی عظمت اپنے دلوں میں بٹھاؤ اور اُس کے جلال کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھو، اور یاد رکھو