خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 407
407 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 اگست 2011 ء خطبات مسرور جلد نهم رفت ہو ، ایک سوز ہو ، دل پگھل جائے اور آنکھوں سے آنسو رواں ہوں۔جو اس سوچ کے ساتھ بہہ رہے ہوں کہ خدا تعالیٰ ہی وہ آخری سہارا ہے جو میری دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے۔ایک اضطراب کی کیفیت طاری ہو جائے۔ایک بے قراری ہو کہ یہ آخری سہارا ہے، اگر یہ ختم ہو گیا تو میری دنیا و آخرت برباد ہو جائے گی۔حضور نے فرمایا کہ یہ حالت ہونی چاہئے تمہاری دعاؤں کی۔پھر ایک شرط دعا کی قبولیت کی عاجزی ہے۔یہ عاجزی ہی ہے جو خدا تعالیٰ کے قریب کرتی ہے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک شعر میں فرماتے ہیں: بد تر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں شاید اسی سے دخل ہو دار الوصال میں (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد نمبر 21 صفحہ 18) کہ اپنی عاجزی کی انتہا تک پہنچو گے ، اپنے آپ کو کمتر سمجھو گے ، اپنے نفس کو ہر قسم کے تکبر سے پاک کرو گے تب ہی خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا ہونے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ورنہ متکبر کا خدا تعالیٰ سے قرب کا کوئی امکان نہیں ہے۔اور جب خدا تعالیٰ کا وصل اور قرب میسر نہیں تو پھر دعاؤں کی قبولیت بھی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : جو دعا عاجزی، اضطراب اور شکستہ دلی سے بھری ہوئی ہو وہ خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچ لاتی ہے اور قبول ہو کر اصل مقصد تک پہنچاتی ہے۔مگر مشکل یہ ہے کہ یہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی“۔(ملفوظات جلد 3 صفحہ 397 مطبوعہ ربوہ) فرمایا کہ اصل اور حقیقی دعا کے واسطے بھی دعا ہی کی ضرورت ہے۔انسان مسلسل دعا کر تار ہے کہ مجھے دعاؤں کی توفیق بھی ملے۔یعنی مقبول دعاؤں کی توفیق ملنے کے لئے بھی دعاؤں کی ہی ضرورت ہے۔پس جب یہ سوچ ہو گی تو پھر دعاؤں سے غفلت اور اُن اعمال سے دوری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جن اعمال کے کرنے اور قرب الہی کا ذریعہ بننے کا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔آپ علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : اللہ جل شانہ نے جو دروازہ اپنی مخلوق کی بھلائی کے لئے کھولا ہے وہ ایک ہی ہے یعنی دعا۔جب کوئی شخص بکاو زاری سے اس دروازہ میں داخل ہوتا ہے تو وہ مولائے کریم اُس کو پاکیزگی و طہارت کی چادر پہنا دیتا ہے اور اپنی عظمت کا غلبہ اُس پر اس قدر کر دیتا ہے کہ بیجا کاموں اور ناکارہ حرکتوں سے وہ کو سوں بھاگ جاتا ہے“۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 315 مطبوعہ ربوہ) پس خوش قسمت ہیں وہ جو بکا وزاری سے اپنے دلوں کو پاک کرتے ہوئے دنیا کی لغویات سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے اُن مقربوں میں سے ہو جاتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کا غلبہ فرما دیتا ہے۔اُن کو برائیوں سے دور کر دیتا ہے۔لیکن اس مقام کو حاصل کرنے کے لئے بھی کوشش پہلے انسان کو ہی کرنی پڑتی