خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 35
35 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جنوری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم لیکھرام کا واقعہ تو ہر ایک کے علم میں ہے کہ کس طرح آپ نے اس میں غیرت کا مظاہرہ فرمایا۔سٹیشن پر آپ وضو فرمارہے تھے تو وہ آیا اور اس نے سلام کیا۔آپ نے توجہ نہ دی اور وضو کرتے رہے۔وہ سمجھا کہ شاید سلام سنا نہیں۔دوسری طرف سے آیا اور سلام کیا۔پھر بھی آپ نے جواب نہیں دیا اور چلا گیا۔وضو کرنے کے بعد کسی نے کہا کہ لیکھرام آیا تھا اور سلام عرض کرتا تھا۔آپ نے فرمایا کہ ”ہمارے آقا کو گالیاں دیتا ہے اور ہمیں سلام کرتا ہے ؟“ (ماخوذ از سیرت المہدی جلد 1 حصہ اول صفحہ 254 روایت نمبر 281 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) یہ تھی غیرت جو آپ نے دکھائی اور یہ غیرت کا مظاہرہ ہے جو ہر مسلمان کو کرنا چاہئے۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ایک واقعہ لکھتے ہیں۔کہتے ہیں ڈاکٹر پادری وائٹ بریخنٹ کو 1925ء میں لندن میں ملا ( جو آج کل یعنی اُن دنوں میں ڈاکٹر سٹانٹن کہلاتے تھے۔یہ لفظ اُردو میں انہوں نے لکھا ہے اس لئے ہو سکتا ہے غلطی ہو۔بہر حال) پادری صاحب بٹالہ میں مشنری رہے ہیں اور حضرت صاحب سے بھی ان کی ملاقات ہوئی۔کہتے ہیں پادری فتح مسیح صاحب سے بٹالہ میں ایک مباحثہ الہام کے متعلق تھا اُس میں بھی ان انگریز پادری صاحب کا دخل تھا۔غرض سلسلے کی تاریخ میں ان کا کچھ تعلق ہے اور اس وجہ سے مجھے شوق پیدا ہوا کہ میں اس پادری کو ملوں۔اس انگریز کو پھر میں لندن میں جا کے ملا۔تو کہتے ہیں کہ گفتگو کے دوران حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت کے بارہ میں سوالات کے جواب میں بعض واقعات بیان ہو رہے تھے وہ سن کر ایک موقع پر وہ پادری صاحب کہنے لگے کہ میں نے ایک بات مرزا صاحب میں یہ دیکھی جو مجھے پسند نہیں تھی کہ وہ جب آنحضرت صلی علیکم پر اعتراض کیا جاتا تو ناراض ہو جاتے تھے اور ان کا چہرہ متغیر ہو جاتا تھا۔یعنی ایسا اعتراض جو نازیبا الفاظ میں کیا جاتا ہو۔باقی اعتراض تو کرتے ہی ہیں جب بحث ہو رہی ہوتی ہے۔جہاں کوئی حد ادب سے باہر نکلتے تھے تو آپ علیہ سلام فوراً غصہ میں آتے اور چہرہ متغیر ہو جاتا۔تو عرفانی صاحب کہتے ہیں، میں نے پادری صاحب کو کہا کہ جو بات آپ کو نا پسند ہے اُسی پر میں قربان ہوں۔کیونکہ اس سے حضرت مرزا صاحب کی زندگی کے ایک پہلو پر ایسی روشنی پڑتی ہے کہ وہ آپ کی ایمانی غیرت اور آنحضرت صلی علیہ کم سے محبت اور عشق اور فدائیت کو نمایاں کر دیتی ہے۔آپ کے نزدیک شاید یہ عیب ہو مگر میں تو اسے اعلیٰ درجہ کا اخلاق یقین کرتاہوں اور آپ کے منہ سے سن کر حضرت مرزا صاحب کی محبت اور آپ کے ساتھ عقیدت میں مجھے اور بھی ترقی ہوئی ہے۔غرض آپ علیہ السلام کو آنحضرت صلی علیم سے بے انتہا عشق تھا اور برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ کوئی آنحضرت صلی ال نیم کی بے ادبی کرے۔شخص (ماخوذ از حیات احمد از حضرت یعقوب علی عرفانی صاحب۔جلد اول صفحہ 265-266 جدید ایڈیشن) تو یہ ہے غیرت رسول کا ایسا اظہار کہ جس سے دوسرے کو خود ہی احساس ہو جائے کہ اس نے آنحضرت صلی الیم کے بارہ میں حد ادب کے اندر رہتے ہوئے بات کرنی ہے۔WEITBRECHT STANTON PHD, D۔D۔-'