خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 402 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 402

خطبات مسرور جلد نهم 402 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 اگست 2011 ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ رب العالمین کی ربوبیت کا بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے قول رب العالمین میں اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ وہ ہر چیز کا خالق ہے۔اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اسی کی طرف سے ہے۔اور اس زمین پر جو بھی ہدایت یافتہ جماعتیں یا گمراہ اور خطا کار گر وہ پائے جاتے ہیں وہ سب عالمین میں شامل ہیں۔کبھی گمراہی، کفر، فسق اور اعتدال کو ترک کرنے کا ”عالم “ بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ زمین ظلم وجور سے بھر جاتی ہے اور لوگ خدائے ذوالجلال کے راستوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔نہ وہ عبودیت کی حقیقت کو سمجھتے ہیں اور نہ ربوبیت کا حق ادا کرتے ہیں۔زمانہ ایک تاریک رات کی طرح ہو جاتا ہے اور دین اس مصیبت کے نیچے روندا جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ ایک اور ”عالم “ لے آتا ہے تب یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل جاتی ہے اور ایک نئی تقدیر آسمان سے نازل ہوتی ہے اور لوگوں کو عارف دل( یعنی پہنچاننے والے دل) اور خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے لئے ناطق زبانیں۔۔۔۔( بولنے والی زبانیں) عطا ہوتی ہیں۔پس وہ اپنے نفوس کو خدا تعالیٰ کے حضور ایک پامال راستہ کی طرح بنا لیتے ہیں اور خوف اور امید کے ساتھ اُس کی طرف آتے ہیں۔ایسی نگاہ کے ساتھ جو حیاء کی وجہ سے نیچی ہوتی ہیں اور ایسے چہروں کے ساتھ جو قبلہ حاجات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں (اُس طرف متوجہ ہوتے ہیں جہاں سے اُن کی حاجتیں پوری ہونی ہوں۔یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔) اور بندگی میں ایسی ہمت کے ساتھ جو بلندی کی چوٹی کو دستک دے رہی ہوتی ہے۔ایسے وقتوں میں اُن لوگوں کی سخت ضرورت ہوتی ہے جب معاملہ گمراہی کی انتہا تک پہنچ جاتا ہے اور حالت کے بدل جانے سے لوگ درندوں اور چو پاؤں کی طرح ہو جاتے ہیں تو اس وقت رحمت الہی اور عنایت از لی تقاضا کرتی ہے کہ آسمان میں ایسا وجود پیدا کیا جائے جو تاریکی کو دور کرے اور ابلیس نے جو عمارتیں تعمیر کی ہیں اور خیمے لگائے ہیں انہیں منہدم کر دے۔تب خدائے رحمان کی طرف سے ایک امام نازل ہو تا ہے تا کہ وہ شیطانی لشکروں کا مقابلہ کرے۔اور یہ دونوں ( رحمانی اور شیطانی لشکر بر سر پیکار رہتے ہیں اور ان کو وہی دیکھتا ہے جس کو دو آنکھیں عطا کی گئی ہوں۔یہاں تک کہ باطل کی گردنوں میں طوق پڑ جاتے ہیں اور امور باطلہ کی سراب نما دلیلیں معدوم ہو جاتی ہیں۔پس وہ امام دشمنوں پر ہمیشہ غالب اور ہدایت یافتہ گروہ کا مددگار رہتا ہے۔ہدایت کے علم بلند کرتا ہے اور پر ہیز گاری کے اوقات و اجتماعات کو زندہ کرنے والا ہوتا ہے۔یہاں تک کہ لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ اُس نے کفر کے سرغنوں کو قید کر دیا ہے اور اُن کی مشکیں گس دی ہیں اور اس نے جھوٹ اور فریب کے درندوں کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں اور اُس نے بدعات کی عمارتوں کو گرا دیا ہے اور اُن کے گنبدوں کو توڑ پھوڑ دیا ہے“۔(اعجاز المسیح روحانی خزائن جلد نمبر 18 صفحه 131 تا 134) (ترجمه از تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 92 تا 94) یہ عظیم انقلاب جس کا بیان آپ نے فرمایا ہے اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے آ گیا، کیا یہ عارضی انقلاب تھا؟ یہ وقتی ”عالم “ تھا جو پیدا ہوا جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم