خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 383 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 383

383 خطبات مسرور جلد نهم خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جولائی 2011ء مجھے جرمنی کے جلسے کے بعد کسی نے لکھا تھا کہ میں نے جرمنی کے جلسہ میں شمولیت کی اور وہاں لجنہ کے ہال میں یہ بات بہت اچھی لگی کہ بغیر کسی کو خاموش کروائے یا خاموش کروانے کی ڈیوٹی والیوں کے عورتیں خاموشی سے جلسے کی کارروائی سن رہی تھیں اور اسی مضمون کا خط مجھے امریکہ سے بھی آیا کہ یہاں جلسہ میں پہلی مرتبہ شامل ہوئی ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ یہاں یو کے کے جلسہ کی طرح عورتوں کو خاموش کروانے کے لئے مختلف جگہوں پر بورڈ اُٹھائے ہوئے یا کارڈ اٹھائے ہوئے کارکنات کھڑی نہیں ہوتیں بلکہ خود بخود عور تیں ڈسپلن سے بیٹھی ہیں اور خاموش ہیں۔یہ ڈسپلن یو کے میں بھی ہونا چاہئے۔تو جیسا کہ جرمنی اور امریکہ کے بارہ میں انہوں نے لکھا تھا تو میں نے یہ خط پڑھ کر اس پر زیادہ توجہ تو نہیں دی کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ لکھنے والوں نے یو۔کے لجنہ کی کمزوریوں پر کچھ زیادہ ہی مبالغہ کیا ہے۔لیکن جلسہ پر مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ کم از کم میری تقریر کے دوران مجھے کارڈ اُٹھائے کوئی ایسی کار کن نظر نہیں آئی اور اس کے باوجود خاموشی کا معیار بہت بلند تھا اور بڑے غور سے تقریر کو سننے کی طرف توجہ تھی۔اور مجھے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ عام طور پر بھی لجنہ نے بہت خاموشی سے جلسے کی کارروائی سنی تھی اور کسی بھی قسم کی کوئی ڈسٹربنس (Disturbance) نہیں ہوئی۔پس اس لحاظ سے جلسہ میں شامل ہونے والی جو خواتین ہیں ان کا بھی کارکنات کو شکر ادا کرنا چاہئے اور جو شامل ہونے والیاں ہیں اُن کی بھی شکر گزاری یہ ہے کہ آئندہ اس سے بھی بڑھ کر اپنے ڈسپلن کا اظہار کریں اور جلسے کی برکات کو سمیٹنے کی کوشش کریں اور پھر ہمیشہ انہیں اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔اپنے گھروں کو اللہ تعالیٰ اور رسول کے حکم اور تعلیم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں کیونکہ یہ عورتوں کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔یہی چیز ہے جو آپ کو حقیقی شکر گزار بنانے والی ہو گی۔ایک غیر نے کام کرنے والے ایک کارکن کے جذبات کا اظہار جو مجھے بتایا وہ آپ کو بھی سنا دیتا ہوں۔سویڈن سے آئے ہوئے جو ایک ہمارے کالمار، وہاں کے شہر کے میئر تھے وہ مجھے کہنے لگے کہ ایک کار کن جو کسی شعبہ کے ناظم تھے ، وہ مجھے نظارہ دکھانے کے لئے اونچی جگہ پر لے گئے، جہاں سے تمام جلسہ کا جو ویج ہے وہ نظر آتا تھا۔جو بھی مار کیاں وغیر ہ لگی ہوئی تھیں سڑکیں وغیرہ ہر چیز نظر آتی تھی۔تو وہ کارکن ان کو بڑے جذباتی انداز میں یہ کہنے لگا کہ یہ خوبصورت نظارہ جو آپ دیکھ رہے ہیں اس کو کھڑا کرتے ہوئے جس میں میں بھی شامل تھا ہمیں دو ہفتے لگے ہیں اور ایک ہفتے کے بعد اس کو ہم صاف کر دیں گے اور یہاں صرف میدان ہو گا۔اس بات کو کہتے ہوئے وہ کارکن بڑے جذباتی ہو گئے۔تو جو محنت سے کام کر رہے ہوتے ہیں، اُن کے اپنے جذبات ہوتے ہیں جس کا اظہار وہ کرتے رہتے ہیں۔بہر حال یہ تو ہمارے فرائض میں شامل ہے کہ جس حد تک ہمیں اجازت ہے اُس حد تک ہی ہم اُس جگہ کو آباد کر سکتے ہیں اور یہ ہر سال اسی طرح ہوتا ہے کہ آبادی بھی ہوتی ہے اور پھر اُس کے بعد اُس سب کچھ کو وہاں سے اُٹھا بھی لیا جاتا ہے۔اور یہ کارکنان جو ہیں یہ بڑی محنت سے مار کیاں لگانے کا کام ، اس سارے نظام کو قائم کرنے کا کام اور پھر وہاں سے اُس کو وائنڈ آپ کرنے کا کام کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔شامل ہونے والوں کی بھی شکر گزاری ہے کہ ان کو جہاں یہ شکر گزار ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو