خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 373 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 373

373 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جولائی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم لباس کے بارے میں شکایات آتی ہیں کہ ایسے ہوتے ہیں جس سے کسی طرح بھی کسی احمدی عورت کا تقدس ظاہر نہیں ہو رہا ہو تا۔پس لباس وہ ہو جو زینت کو چھپانے والا ہو اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرما دی کہ تقویٰ پر چلتے ہوئے جو لباس تم زیب تن کرو گے ، وہی تمہاری زینت چھپانے والا لباس ہے۔اسی طرح مر دوں اور عورتوں کو یہ حکم بھی ہے کہ وہ غض بصر سے کام لیں۔راستہ چلتے ہوئے بلا وجہ ادھر اُدھر نہ دیکھیں، نظریں نہ دوڑائیں، یہ بھی انتہائی ضروری چیز ہے۔اس ماحول میں بعض سڑکوں پر عورتیں اور مرد اکٹھے چل رہے ہوتے ہیں وہاں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے۔ماحول کے تقدس کے لئے بہت ضروری ہے، اپنے اخلاق کے لئے بہت ضروری ہے۔پس اس طرف بھی بہت زیادہ توجہ دیں۔اب چند انتظامی باتوں کی طرف بھی توجہ دلا دوں کہ آپ لوگوں کی حفاظت کے لئے سیکیورٹی کے انتظام میں جو سختی ہے اُسے خوشی سے برداشت کریں۔سکینر (Scanner) سے گزرنا اور سامان چیک کروانا انتہائی ضروری ہے اور خود اس کے لئے پیش کرنا چاہئے۔اگر کبھی غلطی سے کسی کی نظر سے اوجھل بھی ہو گئے ہیں تب بھی خود پیش ہوں کہ ہمیں چیک کرو۔یہ نہ سمجھیں کہ ایک دفعہ چیک کر لیا۔بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے باہر چلے گئے، دوبارہ اندر آگئے تو دوسری دفعہ چیکنگ کی ضرورت نہیں ہے۔جتنی مرتبہ بھی باہر جائیں گے جب بھی اندر آنا ہو گا، چیکنگ ہو گی اور چیکنگ کرنے والوں کا بھی کام ہے چاہے بیشک واقف کار بھی ہوں اُن کی چیکنگ کرنی ہے۔اس لئے اس بات پر کبھی مہمانوں کو یا شامل ہونے والوں کو چڑنا نہیں چاہئے۔لیکن مردوں اور عورتوں کی طرف جن کارکنان یا کار کنات کی سکینرز (scanners) پر ڈیوٹی ہے، چیکنگ پر ڈیوٹی ہے ، اُن سے بھی میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ چیک تو ضرور کریں لیکن یہ بھی کوشش کریں کہ تمام احتیاطوں کے ساتھ جتنی جلدی چیکنگ ہو سکتی ہے ہو جائے تا کہ لوگوں کو زیادہ تکلیف کا سامنانہ کرنا پڑے اور جلسہ بھی وقت پر شروع ہو اور وقت پر پنڈال میں داخل ہو جائیں، مار کی میں آجائیں۔پھر ڈیوٹی والے کارکنان یا سکیورٹی والے ہیں اُن کو تو میں پہلے بھی سیکورٹی کی طرف توجہ دلا چکا ہوں۔جہاں جہاں بھی فینسیں (Fences) لگائی گئی ہیں، یہ نہ سمجھیں کہ فینس (Fence) کافی ہے۔ان فینسوں کے ساتھ ساتھ خاص طور پر ڈیوٹی بھی دینی چاہئے۔اور بڑی احتیاط سے اپنے فرض کو سمجھتے ہوئے ڈیوٹی ادا کریں۔کسی بھی ڈیوٹی کو جہاں بھی کسی کی لگائی گئی ہے معمولی نہ سمجھیں۔شرارتی عصر کوئی بھی شرارت کر سکتا ہے ، اور کسی سے کوئی بعید نہیں۔اس لئے صرف ڈیوٹی دینے والے ہی نہیں بلکہ جلسے میں سب شامل ہونے والے جو ہیں اپنے ماحول پر نظر رکھیں۔جیسا کہ میں نے کہا اپنے یہ دن دعاؤں میں گزاریں۔اس کے ساتھ اپنی حیثیت کے مطابق صدقات پر بھی توجہ دیں۔سکینرز کی بات میں نے کی تھی تو اس دفعہ کوشش کی گئی ہے کہ عموماً اندر آنے کے زیادہ سے زیادہ راستے بنائے جائیں تا کہ کسی کو تکلیف نہ ہو۔مریضوں کو ، بچوں والوں کو زیادہ سہولت میسر کرنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن پھر بھی بعض دفعہ بعض دقتیں سامنے آجاتی ہیں، اس پر بے صبر اور بے حوصلہ نہیں ہونا چاہئے۔پھر تقریروں کے دوران ضرورت سے زیادہ نعرے نہ لگائیں۔بعض لوگوں کو نعرے لگانے کی بہت عادت ہے۔بلکہ