خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 372 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 372

خطبات مسرور جلد نهم 372 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جولائی 2011ء طاری ہو جاتی اور آنسو بند نہ ہوتے تھے کہ سلام پھر جاتا اور نماز ختم ہو جاتی۔غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی اللہ ، جری اللہ فی حلل الانبیاء کی زیارت کا موقع بخشا۔یہ ایک فضل عظیم ہے جو اس نے مجھ پر کیا۔ورنہ میں نے اپنے ناناجان کو ترستے اور روتے سنا تھا کہ نہ معلوم کہ مہدی علیہ السلام کا زمانہ کب آئے گا؟ اس نے ہم پر فضل کیا، ہمیں اُس کی زیارت کا شرف بخشا۔الحمد للہ رب العالمین۔اور حضور کے ہزاروں نشان دیکھے جس سے حضور کی نبوت ثابت ہوتی ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ حضور اللہ تعالیٰ کے نبی تھے۔“ (رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 5 صفحه 167 غیر مطبوعہ) پس ہم وہ لوگ ہیں جن کو گو آپ کی زیارت کا شرف تو حاصل نہیں ہوا لیکن آپ کے دعاوی پر ایمان لانے کی اللہ تعالیٰ نے تو فیق عطا فرمائی۔ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو پورا کرنے والے بنے۔پس اپنی نمازوں اور نوافل میں بھی ہمیں خاص توجہ کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوتے ہوئے ان دنوں میں نمازوں اور نوافل میں سوز و گداز پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسیح موعود کو ماننے والا بنایا، اس کی توفیق عطا فرمائی اور پھر آج کل کا دور جو ہے جس میں مخالفین احمدیت اپنی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں، انفرادی اور اجتماعی دعائیں اور خدا تعالیٰ سے تعلق ہی ہے جو ان کا توڑ ہے اور اس طرف آج کل بہت زیادہ زور دینے کی ضرورت ہے۔پھر ایک بات یہ بھی یاد رہے کہ جلسے پر لوگ آتے ہیں، میل ملاقات بھی ہوتی ہے، بعض لمبے عرصے کے بعد ایک دوسرے کو ملتے ہیں، بعض دفعہ نئی واقفیتیں پیدا ہوتی ہیں پھر خواہش ہوتی ہے کہ مل بیٹھیں ذرا مزید معلومات حاصل کریں، لیکن اس کے لئے جلسے کی کارروائی کے بعد وقفوں میں بیشک بیٹھیں اپنی مجلس لگائیں لیکن ان میں بھی اِدھر اُدھر کی فضول گفتگو کی بجائے اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کا ذکر ہو۔بہت سارے پیارے ہیں جو رخصت ہوئے ، اُن کا بھی ذکر ہو، اُن کی نیک یادوں کا ذکر ہو۔بعض نیک واقعات کا ذکر ہو۔بعض کے نئے رشتے بھی ان دنوں میں قائم ہوتے ہیں تو اس وجہ سے بھی خاص طور پر بیٹھنا پڑتا ہے۔عورتوں کو خاص طور پر توجہ دینی چاہئے کہ صرف وقفے کے دوران باتیں کریں اور چاہے وہ اجتماعی قیام گاہیں ہیں یا وقفہ ہے یا گھر وں میں ہیں، تو پھر وہاں بھی باتیں ایک حد تک ہونی چاہئیں۔بعض دفعہ لوگ ساری ساری رات جاگتے ہیں اور پھر صبح کی نماز بھی ضائع ہو جاتی ہے۔پس اتنا نہ جاگیں کہ رات کو نوافل اور فجر کی نماز ضائع ہو جائے بلکہ خاص اہتمام سے گھروں میں بھی اور جہاں بھی ٹھہرے ہوئے ہیں تہجد کا اہتمام ہونا چاہئے۔تبھی روحانی ماحول سے فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔عورتوں کو خاص طور پر اس امر کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں، جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا کہ جلسہ کوئی دنیاوی میلہ نہیں ہے۔(ماخوذ از شہادۃ القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 395) اس لئے اس میں شامل ہونے والے کی نظر اس بات پر مرکوز ہونی چاہئے کہ ہم نے اپنے روحانی ، اخلاقی اور علمی معیاروں کو بلند کرنا ہے۔اُس میں ترقی کرنی ہے اور اس ماحول سے خاطر خواہ فائدہ اُٹھانا ہے۔جب یہ سوچ ہو گی تو وہ خواتین بھی جو اپنے لباس اور زیوروں کی نمائش کر رہی ہوتی ہیں وہ بھی سادہ لباس میں آئیں گی یا اس سوچ کے ساتھ آئیں گی کہ اصل مقصد ہمارا جلسہ سننا ہے۔پس یہ سوچ رکھنی چاہئے اور لباس مناسب اور ڈھکے ہوئے ہونے چاہئیں۔بعض کے