خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 371 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 371

خطبات مسرور جلد نهم 371 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جولائی 2011ء پس چاہے کارکنان اپنے کسی بہت ہی بے تکلف قریبی عزیز سے ہی بات کہہ رہے ہوں، اگر وہ شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لنگر میں مہمان بن کر آیا ہے تو اُس کی عزت نفس کا بھی بہر حال خیال رکھنا ہو گا اُس کی عزت و تکریم کرنی ہو گی۔اگر صرف ایک دفعہ کے بعد دو دفعہ یا چار دفعہ نہیں، دس ہیں دفعہ بھی اگر کوئی پلیٹ لے کر کھانے کے لئے آتا ہے تو بغیر کسی اظہار کے اُس کو سالن ڈال کر دینا چاہئے۔لیکن یہاں میں مہمانوں سے بھی کہوں گا کہ وہ سالن ضائع نہ کیا کریں۔بعض دفعہ میں نے جا کر دیکھا ہے کہ سالن پلیٹ میں چھوڑ جاتے ہیں اور ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔بعض لوگ آلو گوشت میں سے خاص پسند کی چیز کھالیتے ہیں ، بوٹیاں کھالیں یا تھوڑا سا شور بہ کھالیا لیکن اکثر آلو ضائع کر دیتے ہیں، سوائے یہاں یورپ کے رہنے والے لوگ کچھ آلو کھا لیتے ہیں۔بہر حال سوائے اُن کے جن کو آلو انتہائی ناپسندیدہ ہوں بعض بالکل کھا ہی نہیں سکتے یا کسی کو کوئی طبی وجہ ہو۔مہمان جو ہیں اُن کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ سالن ضائع نہ ہو۔جتنا ڈالیں یا ڈلوائیں وہ کھائیں۔بہر حال میزبان اور مہمان دونوں کا رویہ ہے جو ایک خوبصورت ماحول پیدا کرتا ہے۔ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک کارکن پر اس لئے بہت زیادہ ناراض ہوئے کہ اس نے مہمانوں کے سامنے سے پلیٹیں اُٹھانی شروع کر دی تھیں۔مہمان کھا رہے تھے۔بعض آہستہ آہستہ کھاتے ہیں تو جب کافی وقت گزر گیا اُس نے جو پلیٹیں ہیں وہ اُٹھانی شروع کر دیں۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جب تک مہمان کھا کر خود نہ کہے کہ پلیٹ اُٹھاؤ، تمہارا کام نہیں۔اور آئندہ سے مہمان کو یہ نہیں کہنا کہ ہم نے کام ختم کرنا ہے جلدی کرو۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 13 صفحہ 454-455 غیر مطبوع) لیکن مہمانوں کو بھی یہ عمومی نصیحت ہے کہ کھانا کھا کر پھر اُٹھ جاؤ۔جتنی دیر کھانے میں لگتی ہے وہ تو ٹھیک ہے لیکن اُس کے بعد بیٹھ کے گپیں مارنے نہ لگ جاؤ۔گو یہ نصیحت اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے دی ہے کہ وقت ضائع نہ کیا کرو، اُٹھ جایا کرو۔لیکن یہ اعلیٰ اخلاق کا ایک بنیادی اصول ہے جس کو عموم میں بھی استعمال ہونا چاہئے۔کام کرنے والے بھی کارکنان ہیں انہوں نے بھی آرام کرنا ہو تا ہے، اپنا کام سمیٹنا ہوتا ہے ، مہمانوں کو اُن کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔جلسے کا ایک بہت بڑا مقصد تعلق باللہ پیدا کرنا ہے۔اس لئے جلسے میں شامل ہونے والوں کے لئے یہ بھی ضروری ہے ، کارکنان بھی اور مہمان بھی ہمیشہ یادر کھیں کہ اس تعلق کو پیدا کرنے کے لئے اپنی نمازوں اور نوافل کی طرف بہت توجہ دیں، دعاؤں کی طرف بہت توجہ دیں کہ انہی میں ہمارے مسائل کا حل ہے۔صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس بارے میں کیا نمونے ہوتے تھے ، کس طرح ذوق و شوق سے وہ نمازیں ادا کیا کرتے تھے اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔حضرت عطا محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ولد نتھے خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کی یہ ایک برکت تھی کہ باوجودیکہ میں بچہ تھا لیکن نماز میں کھڑے ہوتے ہی رقت