خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 369 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 369

369 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جولائی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم دلاتے رہتے تھے اس لئے کہ اُن کے معیار کم نہ ہو جائیں۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی تھی جس نے ایسے اعلیٰ اخلاق دکھانے والے پیدا کئے ، دونوں طرف سے ایسے اظہار کرنے والے پیدا کئے جن کی مثالیں نہیں ملتیں۔اور پھر اس لئے بھی نصیحت ہوتی تھی کہ نئے آنے والے بھی جو میزبان بن رہے ہیں یا مہمان بن رہے ہیں اُن کی تربیت کے لئے یہ باتیں سامنے لا کر اُن کے نیکیوں کے معیار بلند تر کئے جائیں۔پھر قرآن شریف بھی ہمیں فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرُتِ (البقرة: 149) کا حکم دیتا ہے کہ نیکیوں میں سبقت لے جانے والے بنو۔یہ حکم ہے۔ایک تو ان باتوں کی طرف توجہ دلانے سے ہر ایک کی نیکیوں میں بڑھنے کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔دوسرے یہ بھی کہ اگر نیکیوں میں آگے بڑھ رہے ہو اور دیکھ رہے ہو کہ میرا بھائی پیچھے رہ رہا ہے تو اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے بھی آگے لاؤ۔نیکیوں کی سیڑھیوں پر چڑھ رہے ہو تو جہاں نیکیوں میں آگے بڑھنے والوں سے مقابلہ ہے وہاں پیچھے رہ جانے والوں کو بھی کوشش کر کے اوپر لاناضروری ہے تاکہ من حیث القوم ترقی کی طرف قدم بڑھتے چلے جائیں اور کوئی ایسا خلق نہ رہ جائے جس میں ہم میں سے ایک بھی اپنی استعدادوں کے مطابق کوشش نہ کر رہا ہو۔یہ خوبصورتی اور محسن اُس وقت پید اہو سکتا ہے جب مومنین ایک جماعت کی صورت میں ہوں۔پس جب نصائح کی جاتی ہیں، چھوٹی چھوٹی باتوں کی نشاندہی کی جاتی ہے تو یہ کسی کو شر مندہ کرنے کے لئے نہیں ہو تیں یا پھر جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لئے نہیں ہو تیں بلکہ ان کی نیکیوں کے معیار بلند کرنے کے لئے ہوتی مہمان نوازی کے ذکر میں گزشتہ جمعہ میں میں نے کہا تھا کہ کسی کے یہ کہنے پر کہ غریب لوگ گھر میں دال کھاتے ہیں یا غریب ممالک میں بعض کو دال بھی نہیں ملتی لیکن امیر گوشت کھانے کے عادی ہیں، اس لئے لنگر میں عام طور پر جو عام لوگ ہیں، غریب ہیں اُن کے لئے تو بیشک دال پکا کرے، اُن کو بیشک دال کھلائی جائے اور امیروں کے لئے گوشت اور اچھا کھانا پکنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات کو سُن کر انتہائی ناپسند فرمایا تھا اور فرمایا تھا کہ جلسے کے مہمانوں کے لئے ایک ہی طرح کا کھانا پکا کرے گا۔(ماخوذازر جسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 8 صفحہ 64 غیر مطبوعہ) لیکن آپ نے ایک موقع پر غرباء کو بھی نصیحت فرمائی۔یہ شیخ محمد اسماعیل صاحب سرساوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے۔کہتے ہیں کہ دو پہر کا کھانا دونوں مجلسوں کو میں کھلایا کرتا تھا۔ایک مجلس نئے مہمانوں کی ہوتی تھی جو حضرت صاحب کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتی تھی۔ایک عموماً یہاں اپنے والوں کی ہوتی تھی۔حضرت اقدس بعض اوقات تقریروں میں یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ دیکھو اگر ایک شخص غریب ہے ہمیشہ گھر میں دال روٹی کھاتا ہے تو اگر یہاں بھی اُسے دال کھانے کو ملے تو اُسے برا نہیں مانا چاہئے۔ہم بعض اوقات اُمراء کے لئے گوشت روٹی کا انتظام خصوصیت سے بھی کر دیتے ہیں تا وہ عادت کی وجہ سے بیمار نہ ہو جائیں۔اُن کو اگر دال ہی دی جائے تو جس غرض کے لئے وہ آتے ہیں وہ غرض پوری نہیں ہو سکتی۔اُن کی صحت خراب ہو جاتی ہے ، غرباء کو اُن کی ریس نہیں کرنی چاہئے۔(ماخوذ ازرجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 10 صفحہ 350-351 غیر مطبوعہ )