خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 368 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 368

368 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جولائی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہو جاتا ہے کہ مہمان ہمارے گھر بیٹھا ہوا ہے، جاتا نہیں۔چاہے غیب میں ہی سہی وہ مہمان کو کوسنے لگ جائے، بُرا بھلا کہہ دے تو پھر گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔پھر یہ ہے کہ اس سے مہمان کی عزت و تکریم نہیں رہتی۔سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ضیافت نہ کر کے گناہگار ہونے کا ہی فرمایا ہے لیکن اگر اس کی جزئیات میں جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ اسی ایک لفظ میں بہت سی نصائح آپ نے فرما دیں۔پھر ایک اور رنگ میں میزبان کو بھی توجہ دلا دی کہ تم مہمان کا جائز حق نہ دے کر اس فعل کو معمولی نہ سمجھو۔اگر یہ فرض ادا نہیں کروگے تو گناہگار بن جاؤ گے، تمہارا اللہ اور یوم آخرت پر ایمان بھی ختم ہو جائے گا۔لیکن مہمان کو فرمایا کہ پھر اس صورت میں تمہارا بھی اپنے میزبان کو گناہگار بنانے میں حصہ ہو گا۔اس لئے تم بھی پوچھے جاؤ گے۔تو دیکھیں بظاہر ایک چھوٹی سی بات ہے جو کہاں سے کہاں تک پہنچ جاتی ہے۔اگر ہر ایک اپنے اپنے حق ادا کرے تو پھر نہ تو وہ میزبان گناہگار بنتا ہے اور نہ ہی مہمان گناہگار بننے والا یا بنانے والا بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا جماعت پر یہ بڑا فضل ہے کہ 99۔99 فیصد لوگ بات سنتے ہیں، ہدایات سنتے ہیں تو اس پر عمل کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔چند ایک ایسے ہوتے ہیں جو ہٹ دھرمی دکھاتے ہیں۔پس ایسے لوگوں کو بھی چاہئے کہ اعلیٰ اخلاق کا نمونہ دکھائیں اور جماعت کا جو حسن ہے اُس کو اور نکھارنے کی کوشش کریں۔اگر ایسے لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے تو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ کیا ضرورت ہے کہ معمولی لوگوں کی بات کو اتنا اُبھار کر پیش کیا جائے۔یہ جو چند ایک لوگ ہیں، ان کو جو نصائح کی جاتی ہیں وہ بھی فائدہ مند ہو جاتی ہیں۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو جو نصائح فرمائیں تو مجموعی طور پر صحابہ کے عمل کو دیکھ کر نہیں فرمائی تھیں بلکہ کسی ایک آدھ کے عمل کو دیکھ کر ہی فرمائی ہوں گی۔صحابہ میں سے اکثریت نیکی اور تقویٰ کے اعلیٰ معیاروں پر پہنچی ہوئی تھی، بلکہ مہاجرین جب ہجرت کر کے مدینہ میں آئے ہیں تو ایک لمبا عرصہ انصار نے اُن کی ایسی خدمت کی جس کی مثال ہی نہیں ملتی۔بے شک یہ کہا جاتا ہے کہ وہ تو بھائی بھائی بن گئے تھے۔مواخات پیدا ہو گئی تھی اور گھر کے فرد کی طرح تھے ، لیکن انصار کے رویے باوجود اس کے کہ وہ مہاجر مستقل حیثیت سے ہی رہنے لگ گئے تھے اور ایک رشتہ بھی قائم ہو گیاوہ اُن کے ساتھ مہمانوں والا سلوک ہی کرتے تھے۔اکثر اپنے سے بہتر خوراک وغیرہ کا انتظام اپنے مہاجر بھائیوں کے لئے کرتے تھے۔لیکن اُدھر مہاجروں کا بھی ایک رویہ تھا۔اُن میں ایسے تھے جو کہتے تھے کہ ہماری مہمان نوازی اس طرح نہ کرو۔ہمیں اپنے حقوق میں سے اس طرح نہ دو۔تم ہمیں بازار کا رستہ بتا دو تا کہ ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو دیں اور خود کمائیں۔(ماخوذ از اسد الغابة فى معرفة الصحابة جلد 3 ذكر " عبدالرحمن بن عوف، صفحہ 377 دار الفکر بیروت 2003ء) سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باوجود اس کے کہ آپ کے صحابہ کی اکثریت نیکیوں پر قائم رہنے والی اور ہر بات کا خیال رکھنے والی تھی پھر بھی نصیحت فرماتے ہیں۔اس لئے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ چند ایک کی خاطر اتنی بڑی نصیحت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو مستقل اعلیٰ اخلاق کی طرف توجہ