خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 364 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 364

364 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم دوسرے دشمن تھے ان کی دشمنی بھی اس وجہ سے بڑھ گئی تھی کہ ان تعلقات کی وجہ سے عمو ماجو کیس یہ لیتے تھے یا جن مقتولوں کی انہوں نے حمایت کی، اور اُن کے کیس لڑے اُن کی وجہ سے جو قاتل تھے وہ بہر حال ان کے خلاف ہو گئے تھے اور پھر احمدیت کی وجہ سے بھی ان کو دھمکیاں ملتی رہی تھیں۔ان کا بھی جنازہ غائب ادا کیا جائے گا۔تیسرا جنازہ غائب ہے مکرمہ رضیہ بیگم صاحبہ دارالرحمت وسطی ربوہ کا جو 25 جون کو فوت ہوئی ہیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْن۔آپ حضرت میاں عبد اللہ صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیٹی اور ہمارے مبلغ سلسلہ قازقستان سید حسن طاہر بخاری کی والدہ تھیں۔نیک، عبادت گزار تھیں، خلافت سے وفا کا تعلق رکھنے والی، نظامِ جماعت کے ساتھ بھر پور تعاون کرنے والی، مخلص خاتون تھیں۔باوجود غربت کے آپ نے 24 سال کی عمر میں 1/3 حصہ کی وصیت کی تھی۔کچھ عرصہ شدید مالی تنگی کی وجہ سے وصیت ادانہ کر سکیں تو دفتر وصیت کی طرف سے انہیں کہا گیا کہ وصیت کا حصہ کم کروالیں، لیکن آپ نے جواب دیا کہ میں نے خدا تعالیٰ سے وعدہ کیا ہوا ہے وہ انشاء اللہ خود ہی سامان فرمائے گا اور توفیق بخشے گا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے اُن کے ساتھ ایسا ہی سلوک فرمایا اور ایک موقعہ پر انہوں نے اپنا سارا بقایا یکمشت ادا کر دیا۔آپ کو دو تین شدید حادثات بھی پیش آئے۔ایک مرتبہ ٹرین کی پٹڑی کے ساتھ ساتھ پیدل چلتے ہوئے ٹرین نے ٹکر مار دی جس سے آپ شدید زخمی ہوئیں۔اس کے علاوہ بھی بعض حادثات ہوئے لیکن شدید حادثات اور لمبے عرصے پر محیط مشکل حالات کو بڑی ہمت اور صبر سے انہوں نے تنہا بر داشت کیا۔حسن طاہر بخاری، جو آپ کے بیٹے ہیں، آپ کی وفات کے وقت ملک سے باہر تھے۔ہمیشہ اُن کی ہمت بندھایا کرتی تھیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے۔ابھی نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد میں باہر جاکر ( کیونکہ ایک حاضر جنازہ ہے اس لئے وہاں جاکر) جنازہ پڑھوں گا اور احباب یہیں مسجد میں رہیں اور میرے پیچھے نماز جنازہ ادا کریں۔الفضل انٹر نیشنل 5 اگست تا 11 اگست 2011ء جلد 18 شمارہ 31 صفحہ 5 تا10)