خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 363 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 363

363 خطبات مسرور جلد نهم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2011ء ابھی نماز جمعہ کے بعد میں چند جنازے پڑھاؤں گا۔ایک تو جنازہ حاضر ہے مکرم شیخ مبارک احمد صاحب ابن مکرم خان فرزند علی خان صاحب کا جو یہاں لمبے عرصے سے رہ رہے تھے۔اور ان کے والد خان فرزند علی خان صاحب بھی جماعت میں بڑی پہچان والے ہیں۔جو 1928-29ء میں انگلستان میں امام بھی رہے ہیں۔انہوں نے ریٹائر ہو کر زندگی وقف کی تھی۔پھر یہ ناظر بیت المال بھی رہے۔کچھ عرصہ ناظر اعلیٰ بھی رہے اور خان“ کا خطاب آپ کو انگریز حکومت کی طرف سے ملا تھا۔مکرم شیخ مبارک احمد صاحب اُن کے بیٹے تھے۔10 جولائی کو 90 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے ، إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔آپ کو کچھ عرصہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری کی حیثیت سے بھی خدمت کی توفیق ملی۔پھر پاکستان میں آپ کو نائب ناظر تعلیم کے طور پر کام کرنے کی توفیق ملی۔1961ء میں یہ یو کے آگئے تھے۔یہاں بحیثیت صدر قضاء بورڈ، نیشنل سیکرٹری امور عامه ، سیکر ٹری رشتہ ناطہ کے علاوہ کئی شعبوں میں خدمت کی توفیق پائی ہے۔نہایت ہمدرد اور سلسلہ کے فدائی اور خلافت سے وفا کا تعلق رکھنے والے خادم سلسلہ تھے۔باوجود پیرانہ سالی کے اور بیماریوں کے بڑی باقاعدگی سے مجھے خط بھی لکھا کرتے تھے اور ایک دو دفعہ ملنے بھی آئے ہیں۔بڑا اخلاص اور وفا کا تعلق تھا۔عہدیداران کی بھی بہت عزت کیا کرتے تھے۔مالی قربانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔اپنی اولاد کو بھی اس کی تلقین کرتے رہتے تھے۔تبلیغ کا بھی شوق تھا۔اپنے حلقہ احباب میں کسی نہ کسی رنگ میں پیغام پہنچاتے رہتے تھے۔ان کے پسماندگان میں چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو بھی اپنے بزرگ والدین، ان کے دادا کی طرح جماعت سے اخلاص و وفا کا تعلق رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔دوسرا جنازہ جو غائب جنازہ ہے وہ ملک مبرور احمد صاحب شہید نوابشاہ کا ہے جن کو 11 جولائی 2011ء کو رات تقریباً سوا آٹھ بجے ان کے چیمبر میں شہید کر دیا گیا۔یہ وکیل تھے۔انہوں نے اپنی گاڑی باہر چیمبر میں کھڑی کی اور چیمبر سے باہر نہیں آئے تھے کہ قریبی جھاڑی میں سے چھپے ہوئے ایک نامعلوم شخص نے باہر نکل کر کنپٹی پر پستول رکھ کر فائر کر دیا اور جو حملہ آور تھا وہ فائر کرنے کے بعد سٹیشن کی طرف بھاگ گیا۔ان کے بھائی ملک و سیم احمد صاحب بھی ان کی گاڑی کے قریب ہی تھے ، وہ حملہ آور کے پیچھے دوڑے تو انہوں نے ان پر بھی فائر کئے لیکن الحمد للہ یہ بھائی تو بچ گئے۔لیکن بہر حال ملک مبرور احمد صاحب کی شہادت ہوئی ہے اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا لَيْهِ رَاجِعُون۔پہلے بھی ایک دفعہ ان پر قاتلانہ حملہ ہو ا تھا۔ان کی عمر پچاس سال تھی۔گو جماعتی مخالفت کے علاوہ بھی ان کی کاروباری دشمنی تھی یا یکطرفہ دشمنی کہنا چاہئے کیونکہ بعض ایسے مقدمات تھے جن میں انہوں نے وہاں کے بعض بڑے لوگوں نے جو قتل کئے ہوئے تھے ان کے مقتولوں کے مقدمے لڑے اور ان کے ساتھ دیئے ہوئے تھے اس وجہ سے بھی دشمنی تھی، کچھ اور بھی دشمنیاں تھیں لیکن بہر حال جماعتی دشمنی غالب تھی۔تو یہ جماعتی خدمات بھی انجام دے رہے تھے۔اور خدام الاحمدیہ میں بھی ناظم عمومی ضلع کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔سیکرٹری جائداد بھی رہے۔آجکل جماعت نوابشاہ کے صدر تھے۔اور پولیس وغیرہ سے تو ان کے تعلقات گہرے تھے اس لئے ان کے جو