خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 362
خطبات مسرور جلد نهم 362 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2011ء آگ تاپنے کے لئے ایک انگیٹھی بھجوائی۔( سردی کے دن تھے، انگیٹھی بھجوائی، کوئلے بھجوائے) ”جس کے بعد جلدی ہی حضور بھی تقریر کے لئے اوپر سے تشریف لے آئے“۔رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 4 صفحه 51 غیر مطبوعہ ) مہمانوں کا اس لحاظ سے بھی خیال رکھا کہ اُن کو سر دی نہ لگے۔میاں عبد العزیز صاحب مغل رضی اللہ تعالیٰ عنہ لکھتے ہیں کہ ”ایک دفعہ ہم آٹھ بجے شام کو بٹالہ اترے۔ہم ہیں بائیس آدمی تھے۔چاند کی روشنی تھی اور گرمیوں کے دن تھے۔مفتی محمد صادق صاحب بھی تھے، بابو غلام محمد صاحب بھی تھے۔ہم رات کے ساڑھے گیارہ بجے قادیان پہنچے۔حضور باہر تشریف لائے۔حافظ حامد علی صاحب کو آواز دی وہ بھی آگئے۔حضور نے دریافت کیا کہ لنگر میں جا کر دیکھو کوئی روٹی ہے ؟ عرض کیا حضور اڑھائی روٹیاں اور کچھ سالن ہے۔فرمایا وہی لے آؤ۔مسجد مبارک کی اوپر کی چھت پر سفید چادر بچھا کر حضور ایک طرف بیٹھ گئے۔ہم تمام آس پاس بیٹھ گئے۔حضور نے ان روٹیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے آگے پھیلا دیئے۔مجھے خوب اچھی طرح یاد ہے کہ ہم تمام نے سیر ہو کر کھایا اور پھر بھی وہ ٹکڑے بچے ہوئے تھے تو اُسی چادر میں وہ لپیٹ کرلے گئے “۔رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 9صفحه 15 غیر مطبوعہ ) اس کی دوسری روایت سے بھی تصدیق ہوتی ہے۔میاں محمد یسین صاحب احمدی ٹیچر گورنمنٹ سکول دالبندین لکھتے ہیں کہ حضرت امیر الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ساکن گجرات نے بیان کیا کہ شروع شروع میں بہت کم آدمی ہوتے تھے۔ایک دفعہ ہم پانچ سات آدمی حضرت مسیح موعود کے مہمان ٹھہرے تو حضور نے چاولوں کا دیگچہ لا کر اور خود نکال کر برتن میں ڈالے اور ہمارے آگے رکھ کر ہم کو کھلائے۔“ پھر جس طرح یہ تعداد بڑھتی گئی، لنگر خانے کے سپر د اور باقی انتظامیہ کے سپر د حضرت مسیح موعود علیہ رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 12 صفحه 101 غیر مطبوعہ ) الصلوۃ والسلام نے انتظام کیا اور ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ ان کا خیال رکھیں۔ملک غلام حسین صاحب مہاجر ولد میاں کریم بخش صاحب لکھتے ہیں کہ ”حضور ہمیشہ تاکید فرمایا کرتے تھے کہ دیکھو میاں غلام حسین! مہمانوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔“ (رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 10 صفحہ 336 غیر مطبوعہ) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فقرہ آج بھی ہمارے لئے اتنا ہی اہم ہے جتنا حضرت میاں غلام حسین کے لئے تھا اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی کرنی چاہئے اور تمام کارکنان کو کوشش بھی کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ انہیں احسن رنگ میں اپنے فرائض مہمان نوازی ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہمیشہ یادرکھیں کہ صرف کھانا کھلانا ہی نہیں بلکہ جیسا کہ میں نے کہا تمام انتظامات مہمانوں کی سہولت کے لئے ہوتے ہیں، اس لئے ہر جگہ پر تمام کارکنان اپنے فرائض احسن رنگ میں ادا کرنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے۔