خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 361
361 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم کھانا تناول فرمارہے تھے۔ہم جلدی سے واپس ہو گئیں۔حضرت صاحب نے دریافت فرمایا کہ کون ؟ عرض کیا گیا کہ مولوی رحیم بخش صاحب ساکن تلونڈی کی اہلیہ ہیں اور دوسری منشی امام الدین صاحب پٹواری کی اہلیہ ہیں۔حضور نے اندر بلا لیا۔ان دنوں میری اہلیہ کی گود میں عزیزم نثار احمد تھا۔حضور نے اپنے کھانے سے ایک برتن میں کچھ کھانا ڈال کر دیا۔میری اہلیہ کو کہا کہ لو یہ کھانا بچے کو کھلاؤ۔ایسا کئی مرتبہ ہوا۔جب کبھی بھی اہلیہ کھانے کے وقت پہنچیں حضور نے بچے کے لئے کھانا دیا اور یہ حضور کی ذرہ نوازی تھی کہ اپنے مریدین سے ایسی شفقت فرماتے تھے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 11 صفحہ 325-326 غیر مطبوعہ) حضرت ضمیر علی صاحب ولد محمد علی صاحب لکھتے ہیں کہ ”کمترین بچپن کی حالت میں حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام کے گھر میں اکثر جایا کرتا تھا۔ایک دفعہ ہمارے محلے کی بہت سی عورتیں گئیں تو میں بھی اُن کے ہمراہ گیا۔اُن ایام میں میرے دائیں ہاتھ پر ضرب آئی ہوئی تھی کوئی چوٹ لگی ہوئی تھی۔جب میں حضور کے ہاں گیا تو حضور اس وقت مسجد مبارک کے قریب والے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔میں بھی اُس کمرے میں چلا گیا۔حضور نے بڑے پیار سے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا۔اس کے بعد حضرت ام المومنین گاجروں کا حلوہ لائیں ، پہلے حضور نے میرے منہ میں دو تین لقمے اپنے ہاتھ مبارک سے ڈالے اور بعد میں فرمایا، کہ بائیں ہاتھ سے کھالو، کیونکہ تمہارے دائیں ہاتھ میں چوٹ لگی ہوئی ہے۔اور پھر کہتے ہیں کہ میں نے پیٹ بھر کر کھایا۔“ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 5 صفحہ 132 غیر مطبوعہ ) ایک روایت حضرت شیخ زین العابدین صاحب کی ہے جو شیخ حافظ حامد علی صاحب اور شیخ فتح محمد صاحب کے بھائی تھے۔کہتے ہیں کہ ” حضور کے زمانے میں مہمانوں کے لئے کھانے کا خاص اہتمام ہوا کرتا تھا۔حضور کو مہمانوں کی مدارات کا خاص خیال رہتا تھا۔میرے بھائی حافظ حامد علی صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ غالباً جلسہ سالانہ کا موقع تھا اور چار دیگیں چاولوں کی پک رہی تھیں، دوزر دے کی اور دو پلاؤ کی۔ایک دن حضور علی الصبح لنگر خانہ میں گئے اور باورچی کو کہا کہ ڈھکنا اٹھاؤ، ہم چاول دیکھنا چاہتے ہیں۔اُس نے ڈھکنا اُٹھایا حضور کو خوشبو اچھی نہ آئی۔اس پر حضور نے دوسری دیگیں بھی دیکھیں اور فرمایا کہ زردے کی دونوں دیگوں کو ڈھاب میں پھینک دو( یہ اچھی نہیں ہے۔یقینا اللہ کی طرف سے ہی کچھ دل میں ڈالا گیا ہو گا کہ دیگیں چیک کرنی چاہئیں۔فرمایا کہ ) جب ہمیں اُن کی خوشبو پسند نہیں آئی تو ہمارے مہمانوں کو کیسے آئے گی؟ چنانچہ حضور کے اس حکم کی تعمیل کی گئی“۔(رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 11 صفحہ 71 غیر مطبوعہ) حضرت میاں اللہ دتہ صاحب ولد میاں مکھن خان صاحب مال پور ضلع ہوشیار پور لکھتے ہیں کہ ”میں جب 1906ء کو سالانہ جلسہ پر قادیان آیا تو حضور کی دو تقریریں سنیں۔پہلی تقریر صبح کے وقت حضور کے مکان پر ہوئی جواب حضرت بشیر احمد صاحب کا مکان ہے اور اس کو بیٹھک کہا کرتے تھے۔جہاں اب باہر کی طرف سیڑھی بنی ہوئی ہے وہاں کھڑکیاں بھی تھیں اور ایک دروازہ تھا، دروازے کا نشان ابھی تک موجود ہے۔حضور نے مہمانوں کے