خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 355 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 355

355 خطبه جمعهہ فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہی کھایا کرتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ بہت قحط پڑ گیا اور آثارو پے کا پانچ سیر ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لنگر کے خرچ کی نسبت فکر پڑی تو آپ کو (پھر) الہام ہو ا۔اکیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ۔اس پر آپ نے فرمایا کہ آج سے لنگر کا خرچ دو گنا کر دو۔اور بڑا مر غن شور بہ پکا کر تا تھا۔“ رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 9 صفحه 105 غیر مطبوعه) یہ فیض آج تک جاری ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے۔اب روپے کا پانچ سیر آٹا اس زمانے میں، آج کل تو بہت مہنگا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ فکریں دور کی ہوئی ہیں اور دنیا میں ہر جگہ لنگر کے انتظامات بڑے احسن طریقے سے چلتے ہیں۔حضرت بابو غلام محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ریٹائرڈ ہیڈ ڈرافٹس مین۔یہ کہتے ہیں کہ ”گورداسپور کے مقدمہ کے دوران میں ایک رات ٹرین سے ہم اترے اور سخت ہوا تیز چلی۔موسم سرما کا تھا، حضور علیہ السلام ایک کو ٹھی میں فروکش ہوئے۔اور آتے ساتھ ہی حکم دیا کہ تکان ہے اب سب سو جائیں۔ہم سب اپنا اپنا بستر لے کر لیٹ گئے۔کچھ دیر بعد حضور اپنے بستر پر سے اٹھے اور دبے پاؤں ایک چھوٹی سی لالٹین لئے ہوئے ہر ایک کا بستر ٹولا کہ تایہ معلوم کریں کہ کسی کے پاس بستر ا نا کافی تو نہیں۔جس کسی کا بسترا کم دیکھتے حضور اپنے بستر پر سے جا کر کوئی ایک کپڑا اٹھا لاتے اور اُس پر ڈال دیتے۔جس طرح سے ماں اپنے بچوں کی حفاظت ایسے سردی کے وقت میں کرتی ہے ، حضور نے اپنے بستر میں سے پانچ سات کپڑے نکال کر مہمانوں پر ڈال دیئے۔میں جاگ رہا تھا اور حضور کی اس شفقت کو دیکھ رہا تھا“۔(رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 9 صفحہ 159-160 غیر مطبوعہ) حضرت ملک غلام حسین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ولد میاں کریم بخش صاحب بیان کرتے ہیں کہ ”ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقع پر مولوی برہان الدین صاحب جہلمی آئے اور ملاقات کی۔حضرت صاحب نے مجھے بلا کر فرمایا کہ میاں غلام حسین! یہ مولوی صاحب تو تمہارے ہیں جہاں تم مناسب سمجھو ان کو رکھو۔میں نے عرض کیا حضور یہ میرے پاس ہی رہیں گے۔مولوی صاحب بڑے خوش رہے ، فرمایا ان کا خاص خیال رکھو، بوڑھے ہیں۔ساتھ سالن بھی اندر سے زیادہ منگواد یا کرو اور شور بہ زیادہ دیا کرو تا کہ ان کو تکلیف نہ ہو“۔(ماخوذ ازرجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 10 صفحہ 340-341 غیر مطبوعہ) حضرت چوہدری عبد العزیز صاحب ولد چوہدری احمد دین صاحب کہتے ہیں کہ ”میں یہاں (گوجرانوالہ) سے لاہور کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے گیا تھا، وہاں سے میں اور میاں محمد رمضان صاحب قادیان حضور کی زیارت کے لئے گئے۔ایک رات ہم وہاں رہے تھے، صبح جب واپس آنے لگے تو حضور نے خود اپنی زبانِ مبارک سے فرمایا کہ ذرا ٹھہر جاؤ۔پھر ہم نے کھانا کھایا اور دو پہر کو جب چلنے لگے اور اجازت مانگی تو حضور نے اجازت بھی عطا فرمائی اور فرمایا کہ یہاں کثرت سے آیا کرو۔میں نے دستی بیعت بھی کر لی تھی مگر میرے ساتھی نے بیعت نہیں کی تھی۔حضور نے ہمیں آتی دفعہ ایک پر اٹھا اور کچھ سالن بھی رومال میں باندھ کر اپنے ہاتھ سے عطا فرمایا تھا۔“ (رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 10 صفحه 107 غیر مطبوعہ)