خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 341
341 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 جولائی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم اس دعا کے تین چار روز بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک پہاڑی کی چوٹی پر کھڑا ہوں اور وہاں سے آگے کئی اور چوٹیاں ہیں۔میں ایک چوٹی سے پھلانگ کر دوسری چوٹی پر جارہا ہوں۔اس دوران آگے سے دو بندر نکلے ہیں اُن میں سے ایک بندر میرے بائیں طرف لپٹ گیا ہے جبکہ دوسرا سیدھا میری طرف آرہا ہے۔اس دوران ایک دیو ہیکل کوئی چیز آتی ہے اور اُس نے طاقت سے اُس بندر کو مجھ سے علیحدہ کر دیا اور میری جان بچائی۔کہتے ہیں اس خواب کے بعد میں بیدار ہو گیا اور میں حیران تھا کہ یہ کیا خواب ہے۔اس کے چند دن بعد میرا جماعت احمدیہ سے رابطہ ہو گیا اور مجھے جماعت کے بارے میں معلومات دی گئیں۔میں نے چند کتب پڑھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کی۔بعد میں مجھے اس خواب کی تعبیر یہ معلوم ہوئی کہ بمطابق حدیث اس دور کے بگڑے ہوئے علماء دراصل بند رہی ہیں اور جماعت احمدیہ نے مجھے اس سے نجات دلائی ہے۔پھر انڈونیشیا کے ایک دوست تھے جن کو گو بیعت کئے ہوئے تو چند سال ہو چکے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ میں ایک دفعہ بیمار ہوا۔ملٹری ہسپتال میں داخل تھا تو ہوش آتے ہی میں نے ایک کشف دیکھا کہ جیپ کی چھت پر ایک وسیع ٹیلی ویژن سکرین لگی ہوئی ہے یا چھت اس سکرین کی طرح چمک رہی ہے اور اس پر پہلے عربی میں کلمہ لکھا ہوا دیکھا۔اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ الله - پھر اس کے بعد قرآنِ کریم اور کچھ احادیث بھی دکھائی دیں اور آخر پر باری باری یہ کلمات لکھے دکھائے گئے۔اسلام سے قبل نہیں مرنا۔قیامت ابھی نہیں آئی۔اور پھر یہ لکھا ہوا آیا کہ انسان کی زندگی ایک کتاب کی سی ہے۔یہ کتاب انسان کی پیدائش کی طرح کھلتی ہے اور انسان کے مرنے کی طرح بند ہو جاتی ہے اور کسی وقت یہ دوبارہ کھولی جائے گی۔ان کلمات میں سے ایک جملے سے ویول (Wewil) صاحب ( اُن کا نام تھا) بڑے بے چین ہو گئے۔اور یہ جو جملہ تھا کہ ”اسلام سے قبل نہیں مرنا“۔اس پر بڑے حیران تھے کہ میں تو مسلمان ہوں اور میرے مسلمان ہونے کے باوجود مجھے یہ جملہ دکھایا گیا ہے۔صحتیاب ہونے کے بعد انہوں نے بہت ساری مذہبی کتابیں پڑھیں۔ایک حدیث پڑھی جس میں اسلام میں تہتر فرقوں کا ذکر تھا جس میں ایک فرقہ ناجی ہے اور باقی نہیں۔کہتے ہیں کہ اس کے بعد انہوں نے اہلسنت والجماعت فرقہ کی تلاش شروع کر دی۔جب وہ اپنے کسی عالم یا مولوی سے ملتے تو ضرور اس کے متعلق سوال کرتے اور جواب ہمیشہ یہی ہو تا کہ ہم ہی اہل سنت و الجماعت ہیں لیکن دلی طور پر یہ صاحب تسلیم نہیں کرتے تھے۔کہتے ہیں سالہا سال تک وہ ناجی فرقہ کی تلاش میں رہے لیکن انہیں کچھ نہ ملا۔حتی کہ جب حج کرنے مکہ گئے تو وہاں بھی فرقہ اہل سنت والجماعت کو نہ پاسکے۔1998ء میں فوج سے ریٹائر ہوئے۔کسی سے اپنی بے چینی کا ذکر کیا کہ یہ کیا چیز ہے جس کی مجھے سمجھ نہیں آرہی۔پھر اُن کو ہمارے کسی احمدی نے بتایا کہ ” جماعت “ کے لئے ضروری ہے کہ ایک جماعت ہو ، جماعت کا ایک امام ہو اور پھر اُس کے پیروکار بھی ہوں۔اور مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ امام بھی ایسا ہو جو عالمی سطح پر ہو اور اُس کے پیروکار اُس کے مکمل مطبع ہوں۔تو اس احمدی نے جب ان غیر احمدی کرنل کو بتایا کہ اس زمانے میں وہ جماعت جس کا ایک عالمی امام ہے وہ صرف اور صرف جماعت احمد یہ ہے اور یہ امام