خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 335 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 335

خطبات مسرور جلد نهم 335 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم جولائی 2011ء جر من مہمانوں کے ساتھ ایک علیحدہ پر وگرام بھی ہوتا ہے اس میں بھی مجھے انہیں مختصر طور پر اسلام کی تعلیم بتانے کی توفیق ملی۔کیونکہ وہ پروگرام انگلش اور جرمن میں تھا اس لئے اُس مجلس میں سے جلسہ میں شامل ہونے والے بھی بہت کم شامل تھے اور شائد ٹی وی پر بھی بہت کم لوگوں نے یہ پروگرام دیکھا ہو لیکن اسلام کا جو پیغام اُن کو پہنچایا گیا، گو میری تقریر وہاں کچھ لمبی ہو گئی تھی لیکن بڑے تحمل سے اُن سب نے سنی اور دو چار وہاں سے اُٹھ کر گئے ہیں وہ بھی اجازت لے کر اور بڑی معذرت کے ساتھ کہ ہماری کچھ اور مصروفیات ہیں جہاں ہمارا پہنچنا ضروری ہے ، تب گئے ہیں۔ایک تاثر ایک مہمان کا بتا دیتا ہوں۔جب میری تقریر ختم ہوئی ہے تو اُس نے ہمارے ایک احمدی کو کہا کہ میں نے اُس وقت گھڑی دیکھی تو پتہ چلا کہ کافی وقت گزر چکا ہے لیکن تقریر اتنی دلچسپ تھی کہ مجھے وقت کا احساس ہی نہیں ہوا۔پھر مجھے کسی نے امریکہ سے لکھا کہ اُن کے ایک امریکن دوست ہیں اُن کے ساتھ یہ بیٹھے سُن رہے تھے۔وہ امریکن عیسائی دوست کہنے لگے کہ بڑی ربط والی اور بڑی دلچسپ باتیں تھیں بلکہ اس نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ پوپ اس طرح نہیں کہہ سکتا یا نہیں کہتا، اس کی تقریر ایسی نہیں ہوتی۔تو یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں اور اسلام کی برتری ہے اور قرآنِ کریم کی برتری ہے جو دنیا پر ظاہر ہو رہی ہے۔اس میں میری کوئی کوشش نہیں ہے یا کسی مقرر کی کوئی کوشش نہیں ہوتی۔یہ وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھر دیا ہے اور یہ وہ بیان ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے سے ہم نے حاصل کیا اور آگے پہنچا رہے ہیں۔جو نیک فطرت ہیں وہ اس کو تسلیم کرتے ہیں اور ان فضلوں کو دیکھ کر دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھر جاتا ہے۔احمدی طلباء لڑکوں اور لڑکیوں کی ایسوسی ایشن سے بھی میری میٹنگ ہوئی تو انہیں بھی میں نے یہی کہا تھا کہ کسی قسم کے احساس کمتری کا شکار ہونے کی بجائے قرآنِ کریم کو رہنما بنالو اور اپنی تعلیم کے میدان میں اور ریسرچ میں اس کو سامنے رکھتے ہوئے کام کرو تو کوئی تمہارا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں بڑی اچھی تعداد طلباء اور طالبات کی تعلیمی میدان میں آگے نکل رہی ہے۔پس ان کو بھی اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بننا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں اس ملک میں آکر تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کا موقع عطا فرمایا ہے۔اب اُن کا فرض ہے کہ اس تعلیمی ترقی کو قرآن کریم کی تعلیم کے تابع رکھیں، اسلام کی تعلیم کے تابع رکھیں اور جماعت سے مضبوط تعلق پیدا کر کے اس کے لئے مفید وجو د بنیں۔ایم۔ٹی۔اے کا ذکر بھی پہلے ہونا چاہئے تھاوہ رہ گیا۔ایم۔ٹی۔اے جر منی کے کارکنوں نے بھی دن رات محنت کر کے جہاں اپنے لائیو (Live) پروگرام دکھائے وہاں وقفوں میں اپنے مختلف سٹوڈیو کے پروگرام بھی دکھاتے رہے اور وہ بڑے اچھے پروگرام تھے۔لندن سے بھی کچھ نوجوان مدد کے لئے آئے ہوئے تھے اور سب نے مل کر جلسے کی کارروائی اور دوسرے پروگراموں کو دنیا تک پہنچایا ہے۔ابھی تو میں سفر میں ہوں میں نے خطوط وصول نہیں کئے لیکن مجھے امید ہے ہمیشہ کی طرح جب میں انشاء اللہ لندن پہنچوں گا تو خطوط کا انبار ہو گا جو