خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 324
324 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہونے کے لئے یہی دن مقرر کر رکھا تھا۔اُس وقت مسجد اتنی وسیع نہ تھی جیسی آج نظر آتی ہے۔سب کے بعد حضرت صاحب خود تشریف لائے اور مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ” آسمانی فیصلہ سنانے کے لئے مقرر کیا۔لیکن میرے لئے یہ ایک حیرت کا مقام تھا کیونکہ میں نے حضرت اقدس کے رُوئے مبارک اور لباس کی طرف دیکھا تو وہ وہی حلیہ تھا اور وہی لباس تھا جس کو ایام طالب علمی میں میں نے دیکھا تھا۔حاضرین تو بڑی توجہ سے آسمانی فیصلہ کو سننے میں مشغول تھے اور میں اپنے دل کے خیالات میں مستغرق تھا اور فیصلہ کر رہا تھا کہ یہ تو وہی نورانی صورت ہے جس کو طالب علمی کے زمانے میں میں نے عالم خواب میں دیکھا تھا۔روایات حضرت صوفی نبی بخش صاحب رجسٹر روایات جلد 5 1 صفحہ 109 غیر مطبوعہ ) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب روایت کرتے ہیں کہ جن دنوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آپ کی وفات کے متعلق الہامات ہو رہے تھے انہی دنوں کا واقعہ ہے کہ جلسہ سالانہ مسجد اقصیٰ میں منعقد ہوا۔حضور نے اس جلسہ میں نماز کے متعلق تقریر فرماتے ہوئے سورۃ فاتحہ کی تشریح فرمائی اور عبودیت کے معنی پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ عبد جب صحیح طور پر عبودیت کے رنگ سے رنگین ہو تا ہے تو اُس کی حالت ایسی ہو جاتی ہے جیسے ایک لوہے کا ٹکڑا آگ میں پڑ کر آگ کا انگارہ ہو جاتا ہے۔اسی طرح صفات الہیہ سے عبد متصف ہو جاتا ہے جس طرح کہ وہ لوہا کا ٹکڑا آگ نہیں ہو تا بلکہ اپنی ماہیت میں لوہا ہوتا ہے اور عارضی طور پر آگ کی کیفیت اُس میں سرایت کرتی ہے۔اسی طرح عبد اپنی حقیقت میں انسان ہوتا ہے لیکن اس میں صفات الہیہ کام کر رہی ہوتی ہیں ایسے عبدکا ارادہ اپنا نہیں ہو تا بلکہ الہی ارادے کے ساتھ اس کی تمام حرکات و سکنات وابستہ ہوتی ہیں۔روایات حضرت زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رجسٹر روایات جلد 4 1 صفحہ 50 غیر مطبوعہ ) پس ایسی عبودیت کی تلاش کی کوشش ہر احمدی کو کرنی چاہئے اور یہی حقیقی مومن ہونے کی نشانی ہے اور یہی چیزیں پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے تھے۔حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری روایت کرتے ہیں کہ غالباً 1906ء کے سالانہ جلسہ کے موقع پر آپ نے اپنی وفات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: میری موت اب قریب ہے اور میں جب اپنی جماعت کی حالت دیکھتا ہوں تو مجھے اُس ماں کی طرح غم ہوتا ہے جس کا دو تین دن کا بچہ ہے اور وہ مرنے لگے لیکن اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر مجھے کامل یقین ہے کہ وہ میری جماعت کو ضائع نہیں ہونے دے گا۔یہ ایک دل کا اطمینان ہے۔(روایات حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری رجسٹر روایات جلد 8 صفحہ 68 غیر مطبوعہ) پس اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کو پورا فرمایا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت روزانہ بڑھ رہی ہے اور بڑھتی چلی جارہی ہے لیکن صرف تعداد میں بڑھنا ہی کافی نہیں، ہمیں اپنے ایمانوں کی بھی فکر کرنی چاہئے، اپنی روحانیت کی بھی فکر کرنی چاہئے اور اس میں بھی بڑھنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔اور اپنے ایمانوں کو اور اپنی نسلوں کے ایمانوں کو بچانے کے لئے ہر وقت اس کوشش میں رہنا چاہئے کہ نہ صرف یہ ایمان ہمارے تک