خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 323
323 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2011ء خطبات مسرور جلد نهم کر آپ کو بیچ میں لے لیں گے۔ہم اس تیاری میں تھے کہ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بہت بڑے جم غفیر کے درمیان میں (اس جمگھٹے کے ) آپ آرہے ہیں۔اس جمگھٹے نے ہمارے ارادے خاک میں ملا دیئے اور یہ جمگھٹا جو تھا ہمیں روند تا ہوا چلا گیا۔ریتی چھلے کے بڑ کے مغرب کی طرف ایک لسوڑی کا درخت تھا۔آپ اُس لسوڑی کے درخت کے نیچے کھڑے ہو گئے اور وہاں ہی آپ لوگوں سے مصافحہ کرنے لگے۔کسی نے کہا حضرت صاحب کے لئے کرسی لائی جاوے تو آپ نے فرمایا۔مجھے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے کہا ہے کہ لوگ بہت بڑی کثرت سے تیرے پاس آئیں گے لیکن ( پنجابی میں باتیں ہو رہی تھیں شاید تو فرمایا) توں آگیں نہ اور تھکیں نہ “۔(ماخوذ از روایات حضرت چوہدری غلام رسول بسر اء صاحب رجسٹر روایات جلد 1 صفحہ 71 غیر مطبوعہ ) دیکھیں کس شان سے آج بھی آپ کا یہ الہام پورا ہو رہا ہے۔اس ملک میں بیٹھے ہوئے کثرت سے لوگ جلسہ سننے کے لئے آرہے ہیں۔اصل میں تو یہ عربی کا الہام ہے جس کا ترجمہ انہوں نے کیا ہے۔یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس طرح بیان فرمایا۔حضرت مولوی محمد جی صاحب ولد میر محمد خان صاحب کہتے ہیں کہ جلسے پر میں نے حضرت اقدس کو تقریر کرتے دیکھا ہے۔کوئی وقت معین نہیں ہوتا تھا جب ارادہ آپ فرماتے تھے تو اعلان کیا جاتا۔میاں بشیر احمد صاحب کے مکان میں جلسہ ہو رہا تھا۔آپ لکڑی کی سیڑھی سے اتر کر آئے جو دالان کے اندر لگی ہوئی تھی اور زندگی وقف کرنے کا ارشاد کیا۔( اُس وقت زندگی وقف کرنے کا ارشاد فرمایا جلسے کی تقریر میں )۔مسجد اقصیٰ میں ایک جلسے میں آپ کے لئے کرسی رکھی گئی اور بیٹھ کر تقریر کی۔تقریر میں فرمایا، ہر ایک آدمی جو یہاں ہے وہ میرانشان ہے، پس اس وقت بھی جو اس وقت یہاں بیٹھے ہیں جلسے پر ، دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے، یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا نشان ہیں۔اور اس صداقت کے نشان کو ثابت کرنے کے لئے ہمیں اپنے اندر وہ پاک تبدیلیاں بھی پیدا کرنی ہوں گی جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے تھے۔حضرت اقدس کی تقریر میں تسلسل ہوتا تھا، شروع میں کچھ دھیمی آواز ہوتی تھی پھر بلند ہو جاتی تھی۔مقرر اپنی تقریروں میں بعض فقروں پر زور دیا کرتے ہیں، آپ کی یہ عادت نہیں تھی۔قرآن مجید کی آیت بھی سادہ طرز سے پڑھتے تھے ، نہ ہاتھ سے اور نہ انگلی سے اشارہ کرتے۔لاٹھی ہاتھ میں لے کر کھڑے ہوتے تھے کبھی دونوں ہاتھ اس پر رکھ لیتے۔آپ کی تقریر نہایت دلکش ہوتی، بالکل اطمینان سے آپ تقریر فرماتے گویا قدرتی مشین ہے جس کو قدرت کے ہاتھ نے کام لینے کے لئے کھڑا کیا ہے۔(ماخوذ از روایات حضرت مولوی محمد جی صاحب رجسٹر روایات جلد 8 صفحہ 145 146 غیر مطبوعہ) حضرت صوفی نبی بخش صاحب روایت کرتے ہیں کہ 27 دسمبر 1891ء کے جلسے پر جس میں حاضرین کی تعداداشی (80) کے قریب تھی میں بھی حاضر خدمت ہوا اور دن کے دس بجے کے قریب چائے پینے کے بعد ارشاد ہوا کہ سب دوست بڑی مسجد میں جو اب مسجد اقصیٰ کے نام سے مشہور ہے تشریف لے جائیں۔حسب الحکم سب کے ساتھ میں بھی وہاں پہنچ گیا۔زہے قسمت کہ میرے لئے قسّام ازل نے اس بر گزیدہ بندے کی جماعت میں داخل