خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 315 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 315

خطبات مسرور جلد نهم 315 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2011ء ان کو جو بد ظنی پیدا ہوئی تھی کہ یہ ریا ہونے لگ گیا ہے، کہتے ہیں میں نے فجر کی نماز میں اللہ تعالیٰ کے حضور تو بہ اور استغفار پڑھی کہ میں نے بد گمانی کی، یا اللہ مجھے معاف کر دے۔یہ کرامات حضرت اقدس کی میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں۔(ماخوذ از روایات حضرت میاں اللہ دتہ صاحب رجسٹر روایات جلد 3 صفحہ 195،194 غیر مطبوعہ) پس یہ بدظنیاں ہیں جو بعض دفعہ بہت دور لے جاتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت پر رکھنا چاہے اُس کے لئے فوراً وہ سامان پیدا کر دیتا ہے تا کہ بدظنیاں دور ہو جائیں، اس سے بچنا چاہئے اور انسان عمومی طور پر استغفار اگر کر تا رہے تو بدظنیوں سے بچتا چلا جاتا ہے۔ایک شخص کی غلطی سے پوری انتظامیہ کو غلط قرار نہیں دینا چاہئے۔پھر ایک روایت ہے جناب حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمی کے بارہ میں ہے۔مولوی مہر دین شاگرد مولوی صاحب نے بیان کی ہے۔کہتے ہیں کہ جب مرزا صاحب نے براہین احمدیہ کتاب لکھی (مولوی صاحب نے ان کو بتایا، انہوں نے آگے یہ روایت لکھی ہے)۔تو میں نے اس کتاب کو پڑھا تو میں نے خیال کیا کہ یہ شخص آئندہ کچھ ہونے والا ہے یعنی اس کو بڑارتبہ اور مقام ملنے والا ہے اس لئے میں اُن کو دیکھ آؤں۔میں اُن کو دیکھنے کے لئے قادیان پہنچا تو مجھے علم ہوا کہ آپ ہوشیار پور تشریف لے گئے ہیں۔میں نے کہا کہ بار بار آنا مشکل ہے اس لئے ہوشیار پور جا کر دیکھ آؤں۔میں نے اُن کا پتہ پوچھا تو کسی نے بتلایا کہ اُن کی بہلی کے بیل سفید ہیں ( بیل گاڑی جو ہے اُس کے بیل سفید ہیں) وہ اب واپس آرہی ہو گی، آپ راستے میں سے پتہ پوچھ لیں۔جب ہم دریا پر پہنچے تو ہماری کشتی نے پہلی والے کی کشتی سے کچھ فاصلے پر تھی اس لئے کچھ دریافت نہ کر سکا۔جب میں ہوشیار پور پہنچا تو مرزا اسماعیل بیگ حضور کے ہمراہ بطور خادم تھے۔حضور کو انگریزی میں الہام ہوا تھا، اُس کا ترجمہ کرانے کے لئے وہ جا رہے تھے کہ مجھے راستے میں ملے۔میں نے اُن سے پوچھا کہ مرزا صاحب کہاں ہیں انہوں نے کہا کہ شہر میں تلاش کر لیں، بتایا نہیں۔معلوم نہیں حضرت صاحب نے منع کیا ہوا تھا یا کوئی اور بات تھی۔آخر میں پوچھ کر آپ کے مکان پر پہنچا اور دستک دی۔خادم آیا اور پوچھا کون ہے؟ میں نے کہا برہان الدین جہلم سے حضرت مرزا صاحب کو ملنے کے لئے آیا ہے۔اُس نے کہا کہ ٹھہرو میں اجازت لے لوں۔جب وہ پوچھنے گیا تو مجھے اُسی وقت فارسی میں الہام ہوا کہ جہاں تم نے پہنچنا تھا، پہنچ گیا ہے۔اب یہاں سے نہیں ہٹنا۔خادم کو حضرت صاحب نے فرمایا کہ ابھی مجھے فرصت نہیں ہے اُن کو کہہ دیں کہ پھر آئیں۔خادم نے جب یہ مجھے بتلایا تو میں نے کہا کہ میر اگھر دور ہے میں یہاں ہی بیٹھتا ہوں جب فرصت ملے گی، تب ہی سہی۔(جب حضرت مسیح موعود کو فرصت ہو گی تب مل لوں گا۔) جب خادم یہ کہنے کے لئے حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت صاحب کو الہام ہوا کہ مہمان آوے تو مہمان نوازی کرنی چاہئے۔اس پر حضرت صاحب نے خادم کو حکم دیا کہ جاؤ جلدی سے دروازہ کھول دو۔میں جب حاضر ہوا تو حضور بہت خندہ پیشانی سے مجھے ملے اور فرمایا کہ ابھی مجھے یہ الہام ہوا ہے۔میں نے عرض کیا کہ مجھے فارسی میں یہ الہام ہوا ہے کہ اس جگہ سے جانا نہیں۔(ماخوذ از روایات حضرت مولوی مہر دین صاحب رجسٹر روایات جلد 3 صفحہ 222 تا 224 غیر مطبوعہ)